میر رضا کیس: دوبارہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں اہم انکشافات

0
5
میر رضا کیس: دوبارہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں اہم انکشافات

کراچی: میر رضا علی کی پُراسرار ہلاکت کے معاملے میں قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے بعد ابتدائی طبی نتائج سامنے آگئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق نوجوان کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ گولی لگنے کی سمت بھی پیچھے سے بتائی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کی ابتدائی رپورٹ میں پہلے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے اٹھائے گئے طبی اور فرانزک سوالات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے نتائج نے میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینے کے بجائے قتل کے امکان پر مزید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

میر رضا کی قبر کشائی ہفتے کے روز پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی قبرستان میں کی گئی، جہاں میڈیکل بورڈ نے دوبارہ طبی معائنہ کیا۔ فرانزک اور کیمیکل تجزیے کے لیے جسم سے مختلف نمونے اور ضروری شواہد بھی حاصل کیے گئے۔

آٹھ رکنی بورڈ کی سربراہی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کر رہی ہیں۔ انہوں نے پہلے پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار پر متعدد اعتراضات اٹھائے تھے، جن میں ایکسرے نہ کروانا، گن شاٹ ریزیڈیو ٹیسٹ کے لیے ہاتھوں کے نمونے نہ لینا اور گولی کے جسم میں داخل ہونے اور نکلنے کی سمت کی مناسب دستاویز بندی نہ کرنا شامل تھا۔

پولیس سرجن کی جانب سے زخموں کے معائنے، فرانزک تصاویر اور ڈی این اے نمونے سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان اعتراضات کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کی سفارش کی گئی۔

دوسری جانب میر رضا کے اہل خانہ کا مسلسل مؤقف ہے کہ ان کی موت خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے۔ میر رضا کے والد نے تازہ پیش رفت پر کہا ہے کہ وہ موجودہ تفتیش سے مطمئن ہیں، تاہم مکمل رپورٹ سامنے آنے سے پہلے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔

کیس میں میڈیکل بورڈ کی تشکیل بھی تنازع کا باعث رہی۔ ابتدا میں آٹھ رکنی بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، بعد ازاں اسے تبدیل کرکے پانچ رکنی بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جس پر اہل خانہ نے اعتراض کیا۔ بعد میں قبر کشائی سے قبل سابقہ آٹھ رکنی بورڈ کو دوبارہ بحال کردیا گیا۔

میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے بھی بورڈ کی تشکیل میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے شفاف اور غیر جانب دار فرانزک تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے قبل پولیس کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر تفتیشی ٹیم خودکشی کے امکان کو زیادہ مضبوط سمجھتی ہے اور میر رضا مبینہ طور پر مالی مشکلات کا شکار تھے۔ تاہم دوبارہ پوسٹ مارٹم کے ابتدائی نتائج کے بعد کیس میں قتل کے امکان سمیت مختلف پہلوؤں کی مزید تحقیقات کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

25 سالہ میر رضا علی کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔ چند روز بعد 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی تھی۔ اب فرانزک اور میڈیکل رپورٹس کی حتمی نتائج اس کیس کی اصل وجہِ موت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Leave a reply