کابل سے اُٹھتی خاموش چیخیں، پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی؟

کابل سے اُٹھتی خاموش چیخیں، پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی؟

تحریر:محمد محسن

افغانستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے، لیکن اس بار جنگی محاذوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اُن خاموش چیخوں کی وجہ سے جنہیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں بعض آزاد میڈیا ادارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ افغان عوام، خصوصاً خواتین اور عام شہریوں، کی آواز دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔

حال ہی میں ایک افغان میڈیا ادارے نے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے عوام کی بڑی تعداد موجودہ حکمرانی، معاشی صورتحال اور حکومتی رویوں سے مطمئن نہیں۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، تاہم اگر یہ درست ہو تو یہ افغانستان کے اندر موجود بے چینی کی ایک جھلک ہو سکتی ہے۔

افغانستان کی معاشی مشکلات، بے روزگاری، تعلیم پر پابندیوں اور انسانی بحران پر اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی ادارے بھی بارہا تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ خاص طور پر خواتین کی تعلیم، روزگار اور بنیادی حقوق کے حوالے سے دنیا بھر میں تنقید جاری ہے۔ ان حالات نے لاکھوں افغان خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی سرزمین پر ہونے والے بعض دہشت گرد حملوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں سے ملتے ہیں، جبکہ افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ یہی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔

پاکستان میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں، خصوصاً افغان شہریوں، کے معاملے پر بھی بحث جاری ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس عمل کے دوران متاثر ہونے والے عام شہریوں اور پناہ گزین خاندانوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ریاستی سلامتی اور انسانی ہمدردی، دونوں پہلوؤں کو متوازن انداز میں دیکھا جائے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کی ذمہ داری انفرادی بنیادوں پر طے کی جاتی ہے۔ کسی بھی ملک یا قوم کے تمام شہریوں کو چند افراد کے جرائم کا ذمہ دار قرار دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی حقائق پر مبنی۔ اسی طرح لاکھوں افغان مہاجرین میں ایسے افراد بھی شامل رہے ہیں جنہوں نے دہائیوں تک پاکستان میں قانون کے مطابق زندگی گزاری اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کیا۔

آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ الزام کس پر ہے، بلکہ یہ ہے کہ خطے میں امن کیسے قائم ہوگا؟ اگر افغانستان میں سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام یقینی نہیں بنایا جاتا تو اس کے اثرات صرف افغان عوام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

کابل کی خاموش گلیوں سے اٹھنے والی ہر سسکی، سرحد کے دونوں جانب سنائی دیتی ہے۔ امن، ترقی اور استحکام کا راستہ الزام تراشی نہیں بلکہ ذمہ دارانہ حکمتِ عملی، مؤثر سفارت کاری اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات سے گزر کر ہی نکل سکتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے نظرانداز کرنا کسی بھی ملک کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a reply