آخرکار زین الدین زیڈان کا خواب پورا، فرانس کی قومی ٹیم کی کمان سنبھال لی

0
35
آخرکار زین الدین زیڈان کا خواب پورا، فرانس کی قومی ٹیم کی کمان سنبھال لی

فرانس کے سابق اسٹار فٹبالر اور ریال میڈرڈ کے کامیاب سابق کوچ زین الدین زیڈان کو فرانس کی قومی فٹبال ٹیم کا نیا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا گیا ہے۔ فرانسیسی فٹبال فیڈریشن کے ساتھ ہونے والے چار سالہ معاہدے کے تحت وہ 2030 کے فیفا ورلڈ کپ تک ٹیم کی قیادت کریں گے۔
زیڈان کی تقرری سابق کوچ ڈیڈیئر ڈیشامپ کے مستعفی ہونے کے بعد عمل میں آئی۔ ڈیشامپ تقریباً 14 برس تک فرانس کی قومی ٹیم کے ساتھ منسلک رہے اور ان کے دور میں ٹیم نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں، تاہم حالیہ عالمی کپ کے بعد انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔
اپنی تقرری کے بعد زیڈان نے کہا کہ فرانس کی قومی ٹیم کی کوچنگ ان کا دیرینہ خواب تھا۔ ان کے مطابق وہ ریال میڈرڈ چھوڑنے کے بعد کسی کلب کی کوچنگ اسی لیے قبول نہیں کر رہے تھے کیونکہ ان کی خواہش صرف فرانس کی قومی ٹیم کی ذمہ داری سنبھالنا تھی۔
زین الدین زیڈان کو فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے فرانس کی نمائندگی کرتے ہوئے 108 بین الاقوامی میچز کھیلے اور 31 گول اسکور کیے۔ 1998 کے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں برازیل کے خلاف ان کے دو گول فرانس کو پہلی مرتبہ عالمی چیمپیئن بنانے میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔
2006 کے ورلڈ کپ فائنل میں اٹلی کے خلاف میچ کے دوران مارکو ماتراتزی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے اور ریڈ کارڈ کے بعد ان کا بین الاقوامی کیریئر اختتام پذیر ہوا، تاہم بعد ازاں انہوں نے کوچنگ کے میدان میں بھی غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کیں۔
زیڈان نے 2013 میں ریال میڈرڈ کے معاون کوچ کے طور پر اپنے کوچنگ کیریئر کا آغاز کیا، بعد ازاں ریال کاسٹیلا کی کوچنگ کی اور 2016 میں ریال میڈرڈ کے ہیڈ کوچ بنے۔ ان کی قیادت میں ریال میڈرڈ نے مسلسل تین یوئیفا چیمپیئنز لیگ ٹائٹل، دو لا لیگا، تین ہسپانوی سپر کپ، دو یوئیفا سپر کپ اور دیگر کئی بڑے اعزازات اپنے نام کیے۔
اب زیڈان کو ایک مضبوط فرانسیسی اسکواڈ میسر ہوگا، جس میں کیلین ایمباپے، عثمان ڈیمبیلے، ایڈرین رابیو اور مائیکل اولیسے جیسے نمایاں کھلاڑی شامل ہیں۔ تاہم دفاعی شعبے، خصوصاً فل بیک اور سینٹر بیک پوزیشنز میں بہتری لانا ان کے لیے اہم چیلنج ہوگا۔
توقع ہے کہ زیڈان بطور ہیڈ کوچ اپنا پہلا میچ 2 اکتوبر کو اٹلی کے خلاف کھیلیں گے، جو ان کے لیے ایک یادگار موقع ہوگا کیونکہ یہی وہ ٹیم ہے جس کے خلاف 2006 میں ان کا بطور کھلاڑی آخری بین الاقوامی میچ تھا۔

Leave a reply