برطانیہ نے ایران سے متعلق امریکی کارروائیوں کے لیے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دےدی

لندن: برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے برطانوی عسکری اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی تیار کردہ پالیسی کے تسلسل میں کیا گیا، جس کے تحت ان کارروائیوں کو دفاعی نوعیت کا اقدام قرار دیا گیا تھا۔ تاہم وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو ایران کی بعض جوہری تنصیبات امریکی کارروائی کا ہدف بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو خطے میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر خلیجی ممالک نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ تنازع کو مزید بڑھانے کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل تلاش کیا جائے۔ رپورٹس کے مطابق خطے میں سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اضافی فوجی لاجسٹک انتظامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
نوٹ: اس خبر میں شامل بعض دعوے متعلقہ فریقوں اور میڈیا رپورٹس سے منسوب ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔









