
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل کو درپیش خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3 ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ تقریباً 79 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی 4 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 74 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی نے تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ امریکی حکام نے ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کا ذکر کیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے بھی خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ کشیدگی بڑھنے کے بعد اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھلا قرار دیا گیا ہے، تاہم خطے کی صورتحال کے باعث شپنگ اور توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ کے بجائے محدود کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں امریکا ایران تعلقات اور خطے کی سکیورٹی صورتحال عالمی تیل مارکیٹ کے رجحانات پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔









