سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: ریاست زمین چھین سکتی ہے مگر پورا معاوضہ دینا لازمی

0
0
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: ریاست زمین چھین سکتی ہے مگر پورا معاوضہ دینا لازمی

اسلام آباد، 6 جولائی 2026: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ریاست عوامی مفاد کے لیے قانون کے مطابق کسی بھی شہری کی زمین حاصل کر سکتی ہے، تاہم زمین کے مالک کی مرضی کے بغیر اراضی لینے کا اختیار غیر محدود نہیں اور اس کے ساتھ منصفانہ اور مکمل معاوضہ دینا آئینی طور پر لازم ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 شہریوں کے جائیداد رکھنے اور اس سے محروم کیے جانے کے معاملات کو منظم کرتے ہیں۔ کسی بھی شخص کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ عوامی مفاد میں زمین کے حصول کی صورت میں مناسب معاوضہ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

فیصلے کے مطابق زمین کے معاوضے کا تعین صرف سرکاری ریٹ کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ مارکیٹ ویلیو، زمین کے ممکنہ استعمال، مستقبل کی ترقی اور حصولِ اراضی میں تاخیر کے دوران افراطِ زر اور قیمتوں میں اضافے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ عدالت نے اس اصول پر زور دیا کہ متاثرہ مالک کو ایسا معاوضہ ملنا چاہیے جو اس کے مالی نقصان کا مکمل ازالہ کرے۔

یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جائیداد کے مالک کو مناسب اور منصفانہ معاوضہ فراہم کرنا آئینی تقاضا ہے تاکہ وہ مالی نقصان یا معاشی مشکلات کا شکار نہ ہو۔

یہ فیصلہ صوابی میں نہر منصوبے کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق مقدمے میں سنایا گیا۔ سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی تمام سول اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور ریفرنس کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے، جن میں زمین مالکان کے حق میں معاوضہ بڑھایا گیا تھا۔

Leave a reply