
ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق روزانہ کافی پینے کی عادت جگر کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے جگر کے بعض سنگین امراض کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔
تحقیق، جو طبی جریدے Clinical Gastroenterology and Hepatology میں شائع ہوئی، میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد کے صحت کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں شامل افراد کی عمریں 40 سے 69 سال کے درمیان تھیں اور آغاز میں وہ جگر کے امراض یا جگر کے کینسر کا شکار نہیں تھے۔
محققین نے تقریباً 13 برس تک شرکاء کی صحت کا مشاہدہ کیا اور ان کی کافی پینے کی عادات کا مختلف جگر کے امراض، جگر کے کینسر اور اموات سے تعلق جانچا۔
نتائج کے مطابق روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ کپ کافی پینے والے افراد میں جگر کے ٹشوز کی سختی (فائبروسس) کا خطرہ تقریباً 32 فیصد، جگر کے کینسر کا خطرہ 47 فیصد اور جگر کے امراض سے موت کا خطرہ 42 فیصد تک کم دیکھا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ روزانہ ایک سے چار کپ کافی پینے والے افراد میں بھی جگر کے امراض کے خطرے میں کچھ حد تک کمی دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق کافی جگر میں چکنائی، آئرن کی زیادتی اور سوزش میں کمی لانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کافی میں موجود بعض قدرتی مرکبات تکسیدی تناؤ (Oxidative Stress) اور دائمی سوزش کو کم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں، جو جگر کو نقصان پہنچانے والے اہم عوامل سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم صرف کافی پینے کو جگر کے امراض سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن برقرار رکھنا اور صحت مند طرزِ زندگی جگر کی صحت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔









