تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ گیا، حکومت کا ہدف ناکام!

0
10
تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ گیا، حکومت کا ہدف ناکام!

وفاقی ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو حکومتی ہدف سے بھی کافی زیادہ رہا۔

رپورٹ کے مطابق اس مالی سال میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 39 ارب 47 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ حکومت نے اسی مدت کے لیے خسارے کا ہدف 29 ارب 92 کروڑ 90 لاکھ ڈالر مقرر کیا تھا، تاہم اصل صورتحال اس ہدف سے خاصی مختلف رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں کمی دیکھی گئی اور مجموعی حجم 30 ارب 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہے۔ حکومت نے برآمدات کے لیے 35 ارب 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا ہدف رکھا تھا، جو حاصل نہ ہو سکا۔

دوسری جانب درآمدات میں اضافہ ہوا اور مجموعی حجم 69 ارب 59 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جو تقریباً 8 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ درآمدات کا سرکاری ہدف 65 ارب 21 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھا۔

ماہانہ بنیادوں پر جون 2026 میں بھی تجارتی دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا، جب خسارہ 4 ارب 52 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا۔ اسی ماہ درآمدات 6 ارب 76 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جبکہ برآمدات میں بھی کمی رپورٹ کی گئی۔ سالانہ بنیاد پر جون میں تجارتی خسارہ 57 فیصد سے زائد بڑھا، جبکہ ماہانہ بنیاد پر اس میں تقریباً 64 فیصد اضافہ ہوا۔

ادارہ شماریات کے مطابق مجموعی طور پر مالی سال کے دوران تجارتی عدم توازن میں اضافہ درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث سامنے آیا۔

Leave a reply