جیل اصلاحات کانفرنس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے خطابات — قیدیوں کی سہولیات اور اصلاحات پر زور

0
20
جیل اصلاحات کانفرنس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے خطابات — قیدیوں کی سہولیات اور اصلاحات پر زور

اسلام آباد میں منعقدہ جیل اصلاحات سے متعلق ایک جوڈیشل کانفرنس میں مختلف صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپنے اپنے صوبوں میں جیل نظام میں بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جیل اصلاحات کا ایک بڑا حصہ ان کے ذاتی تجربات سے متاثر ہے۔ ان کے مطابق قید کے دوران سہولیات کی کمی اور محدود ماحول نے انہیں یہ احساس دلایا کہ اصلاحات کی کتنی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جیلوں میں اب قیدیوں کے لیے ویڈیو لنک سمیت کچھ جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

سندھ کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جیلوں میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور صوبائی حکومت اس حوالے سے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بحالی مراکز قائم کیے گئے ہیں اور قیدیوں کی جیل منتقلی سے قبل ان کی اسکریننگ بھی کی جاتی ہے تاکہ ان کی بہتر رہنمائی اور اصلاح ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ سزا مکمل کرنے کے بعد قیدی معاشرے کے ذمہ دار شہری بن کر واپس آئیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل جیسے بڑے اداروں سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے ملاقاتیوں کے لیے بہتر سہولیات اور انتظار گاہوں کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق صوبے میں ویڈیو کال اور ای وزٹنگ جیسے نظام متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ قیدی اپنے اہل خانہ سے رابطے میں رہ سکیں۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے میں قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتی قیدیوں کو عبادت کی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

کانفرنس میں مجموعی طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ جیل نظام میں اصلاحات کا مقصد صرف سزا نہیں بلکہ قیدیوں کی بحالی اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانا ہونا چاہیے۔

Leave a reply