بھارت سے پیٹرول کی خریداری، روس نے قلت پر قابو پانے کے اقدامات تیز کر دیے

0
17
بھارت سے پیٹرول کی خریداری، روس نے قلت پر قابو پانے کے اقدامات تیز کر دیے

روس میں پیٹرول کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد حکومت نے بیرونِ ملک سے پیٹرول درآمد کرنے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ مختلف ذرائع کے مطابق روس نے سمندری راستے سے بھارت سے بھی پیٹرول کی خریداری شروع کر دی ہے تاکہ ملک میں ایندھن کی قلت پر قابو پایا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق یوکرین کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ڈرون حملوں کے باعث روس کی بعض آئل ریفائنریوں کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں پیٹرول کی دستیابی متاثر ہوئی۔ اس صورتحال کے باعث بعض شہروں میں پیٹرول پمپس پر رش، محدود فراہمی اور قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
روسی حکومت نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ممالک سے ایندھن کی درآمد کے امکانات پر کام کر رہا ہے۔
صنعتی ذرائع کے مطابق بھارت سے دسیوں ہزار میٹرک ٹن پیٹرول روس بھیجا جا چکا ہے، جبکہ آئندہ مہینوں میں مزید کھیپیں بھی روانہ کیے جانے کا امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق روس اپنی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ماہ مختلف ممالک سے تقریباً چار لاکھ ٹن پیٹرول درآمد کرنے پر غور کر رہا ہے، جس میں بیلاروس بھی شامل ہے۔
گرمیوں کے دوران روس میں پیٹرول کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے اور روزانہ تقریباً ایک لاکھ دس ہزار ٹن پیٹرول استعمال کیا جاتا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی حالیہ اجلاس میں تسلیم کیا کہ بعض علاقوں میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
دوسری جانب بھارت بدستور روس سے بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کر رہا ہے اور اسے اپنی ریفائنریوں میں صاف کرنے کے بعد مختلف ممالک کو پیٹرول اور دیگر مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ جون کے دوران بھارت نے روس سے یومیہ تقریباً 27 لاکھ بیرل خام تیل خریدا، جو اس کی مجموعی درآمدات کا بڑا حصہ تھا۔

 

Leave a reply