فورڈ کا اے آئی پر انحصار کم، سینئر انجینئرز کی واپسی — کوالٹی جانچ میں تبدیلی

0
12
فورڈ کا اے آئی پر انحصار کم، سینئر انجینئرز کی واپسی — کوالٹی جانچ میں تبدیلی

امریکی آٹو موبائل کمپنی فورڈ نے گاڑیوں کے معیار کی جانچ کے عمل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر بڑھتے ہوئے انحصار کے بعد اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کی ہے۔ کمپنی نے تسلیم کیا ہے کہ اے آئی سسٹمز انسانی ماہرین کے برابر معیار اور درستگی فراہم کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے، جس کے بعد سینئر انجینئرز اور تجربہ کار کوالٹی انسپکٹرز کو دوبارہ بھرتی کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فورڈ نے گزشتہ برسوں میں پیداواری عمل، ڈیزائن اور کوالٹی کنٹرول میں اے آئی ٹولز اور خودکار نظاموں کا استعمال بڑھایا تھا تاکہ لاگت کم ہو اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔ تاہم کمپنی کے اندرونی جائزوں کے مطابق یہ نظام عملی سطح پر وہ نتائج نہیں دے سکے جن کی توقع کی جا رہی تھی۔
فورڈ کے ہارڈویئر انجینئرنگ کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اسی حد تک مؤثر ہوتی ہے جتنا اچھا ڈیٹا اسے فراہم کیا جائے، جبکہ انسانی تجربہ اور دہائیوں پر محیط فنی مہارت کو مکمل طور پر مشینوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ماضی میں کمپنی نے تجربہ کار انجینئرز کے علم کو مناسب اہمیت نہیں دی، جس کا اثر معیار پر پڑا۔
کمپنی کے مطابق کئی ایسے ماہرین جو پہلے ادارہ چھوڑ چکے تھے، انہیں دوبارہ ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ وہ نہ صرف اے آئی سسٹمز کی بہتری میں کردار ادا کریں بلکہ نئے انجینئرز کی رہنمائی بھی کریں۔ اس اقدام کا مقصد انسانی تجربے اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کر کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
ادھر فورڈ انتظامیہ نے بتایا ہے کہ کمپنی نے اپنی فیکٹریوں میں سینکڑوں اے آئی بیسڈ کیمرے نصب کیے ہیں جو پیداواری مراحل میں خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ان ٹیکنالوجیز کو مزید بہتر بنانے کے لیے انسانی نگرانی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اگرچہ ابتدائی طور پر اے آئی پر انحصار کے نتائج مکمل طور پر تسلی بخش نہیں تھے، تاہم حالیہ مہینوں میں کوالٹی میں بہتری دیکھی گئی ہے اور فورڈ کو امریکی آٹو انڈسٹری کے معیار کے جائزوں میں نمایاں پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔
فورڈ نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں بھی اے آئی کو مکمل متبادل کے بجائے انسانی مہارت کے ساتھ مل کر استعمال کیا جائے گا تاکہ بہتر اور قابلِ اعتماد مصنوعات تیار کی جا سکیں۔

Leave a reply