جامن کی غیر معمولی پیداوار، ماہرین نے خشک سالی کے خدشات ظاہر کر دیے

گرمیوں کے موسم میں جب جامن کے درخت گہرے جامنی رنگ کے رسیلے پھلوں سے لد جاتے ہیں اور بازار ان کی بھرمار سے بھر جاتے ہیں، تو ایک پرانا سوال پھر سے زیرِ بحث آ جاتا ہے کہ آیا جامن کی غیر معمولی پیداوار کسی آنے والے قحط کی علامت ہوتی ہے یا یہ محض موسمی حالات کا نتیجہ ہے۔
دیہی علاقوں میں صدیوں سے یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ اگر کسی سال جامن کے درخت غیر معمولی طور پر زیادہ پھل دیں اور زمین پھلوں سے ڈھک جائے تو یہ آنے والی خشک سالی یا غذائی قلت کی قبل از وقت نشانی ہو سکتی ہے۔ بزرگوں کے مطابق قدرت سخت حالات سے پہلے انسانوں اور جانوروں کے لیے نسبتاً زیادہ مضبوط غذا فراہم کر دیتی ہے تاکہ بقا ممکن ہو سکے۔
تاہم جدید ماہرینِ نباتات اس خیال کو علامتی قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا تعلق مستقبل کی پیشگوئی سے نہیں بلکہ موجودہ موسم سے ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جامن کے درخت بہار کے اختتام پر حساس مرحلے میں ہوتے ہیں، اور اگر اس دوران موسم زیادہ خشک اور گرم رہے تو پولینیشن بہتر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں پیداوار غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ شدید موسمی دباؤ کے دوران پودے اپنی بقا کے لیے زیادہ پھول اور بیج پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ نسل آگے بڑھ سکے۔ اسی وجہ سے بعض اوقات خشک یا غیر معمولی موسم کے بعد درختوں پر پھلوں کی بھرمار دیکھنے میں آتی ہے۔
موسمیاتی ماہرین اس رجحان کو عالمی تبدیلیوں سے بھی جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق “ایل نینو” جیسے موسمی مظاہر دنیا کے مختلف حصوں میں بارشوں کے نظام کو متاثر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کہیں خشک سالی اور کہیں غیر معمولی پیداوار دیکھنے کو ملتی ہے۔
اگرچہ جامن کی زیادہ پیداوار بظاہر خوشحالی کا منظر پیش کرتی ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہی خشک اور گرم حالات زرعی نظام کے دیگر حصوں، خصوصاً چاول، کپاس اور سبزیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اگر زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہوتی رہی تو مستقبل میں ایسے سخت جان درخت بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
یوں جامن کی کثرت نہ تو یقینی طور پر قحط کی علامت ہے اور نہ ہی محض خوشحالی کی ضمانت، بلکہ یہ بدلتے ہوئے موسم اور ماحولیاتی دباؤ کا ایک قدرتی عکس سمجھا جا سکتا ہے۔









