آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کا آغاز

اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی میری ٹائم ادارے (IMO) نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے مرحلہ وار انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی اور ممکنہ جنگ بندی کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے بعد خطے میں بحری سرگرمیوں کی بحالی کی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔
IMO کے سیکریٹری جنرل کے مطابق یہ آپریشن ایران، عمان، دیگر علاقائی ممالک اور عالمی بحری صنعت کے تعاون سے کیا جا رہا ہے تاکہ تمام افراد کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران مکمل حفاظتی انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں۔
گزشتہ دنوں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری راستے متاثر ہوئے تھے اور متعدد جہاز وہاں پھنس گئے تھے۔ تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد بحری آمدورفت میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے اور درجنوں جہاز دوبارہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔
عمان کی وزارتِ دفاع کے مطابق بحری ٹریفک کو مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی حادثے یا تصادم کے خطرات سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب مختلف ممالک اور ادارے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے رابطے میں ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی راستہ ہے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی قسم کی فیس عائد نہیں کی جا سکتی۔ ایران کی جانب سے بھی اس معاملے پر مذاکرات اور رابطے جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
اگرچہ بحری راستہ جزوی طور پر بحال ہو چکا ہے، لیکن مکمل معمول پر آنے میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے۔









