اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی: آخر یہ تنازعہ کیوں بار بار بھڑک اٹھتا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں خاص طور پر اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ یہ تنازعہ دہائیوں پر محیط ہے اور اس کا مرکزی کردار لبنان کی طاقتور مسلح تنظیم حزب اللہ ہے، جو اسرائیل کے ساتھ طویل عرصے سے تصادم میں رہی ہے۔
یہ لڑائی صرف دو ریاستوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں علاقائی سیاست، ایران اور امریکا جیسے بڑے ممالک کے مفادات بھی شامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ تنازعہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
حزب اللہ اور اس کا کردار
حزب اللہ لبنان میں ایک سیاسی اور عسکری تنظیم کے طور پر موجود ہے۔ اسے ایران کی حمایت حاصل رہی ہے، اور اس کے پاس راکٹ، میزائل اور ڈرونز کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔
اس تنظیم کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور قبضے کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے، جبکہ اسرائیل اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔
تنازعہ کیسے بڑھا؟
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کی ایک بڑی تاریخ ہے، جس میں 2006 کی بڑی جنگ بھی شامل ہے۔ اس جنگ کے بعد اگرچہ وقتی طور پر کشیدگی کم ہوئی، لیکن مکمل امن قائم نہ ہو سکا۔
2023 کے بعد غزہ میں جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی لبنان-اسرائیل سرحد پر بھی جھڑپیں بڑھ گئیں۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جبکہ اسرائیل نے لبنان کے جنوبی علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں تیز کر دیں۔
انسانی اور معاشی نقصان
جنوبی لبنان میں ان جھڑپوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ دیہات خالی ہو گئے، ہزاروں گھر متاثر ہوئے، اور عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس سے خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنی شمالی سرحد کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ اسرائیلی قیادت، بشمول بنجمن نیتن یاہو، بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ جب تک حزب اللہ کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے، فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اسرائیل کا ایک اور مطالبہ یہ بھی رہا ہے کہ لبنان کی حکومت حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو محدود کرے، تاہم لبنان کی ریاستی کمزوری کی وجہ سے یہ عمل آسان نہیں رہا۔
حزب اللہ اور لبنان کا موقف
حزب اللہ اسرائیلی الزامات کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیلی حملے جاری رہیں گے، وہ بھی جوابی کارروائی کرتی رہے گی۔
لبنان کی حکومت اس صورتحال میں اکثر کمزور فریق نظر آتی ہے، کیونکہ ملک کے اندر سیاسی تقسیم اور معاشی بحران بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔
امریکا، ایران اور عالمی سیاست
اس تنازعے میں امریکا بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ وہ اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے۔ دوسری طرف ایران حزب اللہ کا اہم حامی سمجھا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے اسرائیل-لبنان کشیدگی صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ یہ امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر کشیدگی سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ بعض امریکی رہنما، جیسے ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس، مختلف مواقع پر اس تنازعے پر سیاسی مؤقف دیتے رہے ہیں۔
اسی طرح اسرائیلی اور ایرانی قیادت بھی ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دیتی رہی ہے، جس سے سفارتی حل مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط سیاسی، عسکری اور علاقائی پیچیدگیوں کا مجموعہ ہے۔
جب تک سرحدی سیکیورٹی، علاقائی طاقتوں کے مفادات اور مسلح گروہوں کے کردار جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، اس تنازعے کے مکمل خاتمے کی امید کم ہی نظر آتی ہے۔
اصل نقصان ہمیشہ عام شہریوں کو ہوتا ہے، جو اس طویل جنگی صورتحال کی سب سے بڑی قیمت چکاتے ہیں۔









