واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت — امن کی جانب پیش رفت یا وقتی مہلت؟

واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت — امن کی جانب پیش رفت یا وقتی مہلت؟

تحریر:ذوالفقار راحت

امریکہ اور ایران کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک قابلِ ذکر سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، تاہم اسے مستقل اور مکمل امن کا ضامن قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ درحقیقت یہ ایک ابتدائی خاکہ ہے جو دونوں ممالک کو آئندہ 60 دنوں کے دوران اہم اور پیچیدہ معاملات پر بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اس پیش رفت کی اصل کامیابی کا انحصار معاہدے پر دستخط سے زیادہ اس پر عملدرآمد میں پوشیدہ ہے۔ لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر تنازعات بدستور موجود ہیں، جبکہ ایران، اسرائیل اور لبنان کے مختلف مؤقف ظاہر کرتے ہیں کہ زمینی حالات ابھی سفارتی اعلانات کے مطابق نہیں بدلے۔
اگر متعلقہ فریق اعتماد سازی، تناؤ میں کمی اور عملی اقدامات کو ترجیح دیتے ہیں تو یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے۔ لیکن اگر دیرینہ اختلافات اور علاقائی کشیدگیاں برقرار رہیں تو یہ کوشش بھی سابقہ سفارتی اقدامات کی طرح محدود نتائج تک محدود ہو سکتی ہے۔
فی الحال ایک نئے سفارتی باب کا آغاز ضرور ہوا ہے، لیکن دنیا اب اس بات کی منتظر ہے کہ آیا مذاکرات کی یہ فضا عملی طور پر امن اور خاموشی میں بھی تبدیل ہو پاتی ہے یا نہیں۔

Leave a reply