گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا معاملہ تاحال غیر یقینی، سیاسی جوڑ توڑ میں تیزی

0
13
گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا معاملہ تاحال غیر یقینی، سیاسی جوڑ توڑ میں تیزی

گلگت بلتستان کے حالیہ عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا عمل ابھی تک حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہو سکا۔ انتخابی نتائج کے مطابق کوئی بھی سیاسی جماعت تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی، جس کے باعث مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان رابطے اور مشاورت جاری ہیں۔

سات جون کو منعقد ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی 11 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے 6 نشستیں حاصل کیں۔ اسی تعداد میں آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے، جن میں بعض مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت یافتہ شخصیات شامل ہیں۔ ایک نشست مجلس وحدت المسلمین کے حصے میں آئی۔

حالیہ دنوں میں چار آزاد ارکان کی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت نے سیاسی منظرنامے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد آئی پی پی اسمبلی میں ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے، حالانکہ جماعت انتخابی میدان میں کوئی نشست حاصل نہیں کر سکی تھی۔

پیپلز پارٹی کی قیادت نے انتخابات کے فوراً بعد حکومت بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے سب سے بڑی جماعت کو حکومت سازی کا حق ملنا چاہیے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی پہلے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب میں ن لیگ اپنے ووٹ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو دے سکتی ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی سیاسی فارمولہ سامنے نہیں آیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعاون برقرار رہتا ہے تو حکومت سازی کا عمل نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ تاہم بعض حلقوں میں متبادل سیاسی اتحادوں کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں، اگرچہ موجودہ عددی صورتحال ایسی کسی کوشش کو مشکل بناتی ہے۔

متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد پیپلز پارٹی کی پارلیمانی طاقت میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے نتیجے میں اسے حکومت بنانے کے لیے محدود اضافی حمایت درکار ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ مکمل ہونے کے بعد جون کے آخری ہفتے میں گلگت بلتستان اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب کیے جانے کا امکان ہے، جہاں نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب سمیت اہم آئینی مراحل طے کیے جائیں گے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آئندہ چند روز پر مرکوز ہیں، کیونکہ انہی دنوں میں واضح ہو سکے گا کہ گلگت بلتستان میں حکومت کس جماعت یا اتحاد کے حصے میں آتی ہے۔

Leave a reply