جنوبی کوریا: سابق صدر یون سک یول کو 30 سال قید کی سزا

سیئول: جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور دشمن کی معاونت سے متعلق مقدمے میں 30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سابق صدر کو اکتوبر 2024 میں شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں مبینہ ڈرون آپریشن کی منصوبہ بندی میں ملوث قرار دیا گیا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ اس کارروائی کا مقصد دسمبر 2024 میں مارشل لا کے نفاذ کے لیے حالات سازگار بنانا تھا۔
یون سک یول نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے نہ تو ڈرون آپریشن کا حکم دیا اور نہ ہی اس کی منظوری دی۔ دفاعی ٹیم کے مطابق یہ کارروائی شمالی کوریا کی جانب سے سرحد پار بھیجے جانے والے کچرے سے بھرے غباروں کے جواب میں کی گئی تھی اور اس کا مارشل لا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
یہ فیصلہ سابق صدر کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی انہیں مارشل لا نافذ کرنے کی مبینہ کوشش سے متعلق ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
یون سک یول کو گزشتہ سال عہدے سے ہٹایا گیا تھا جب آئینی عدالت نے ان کے مواخذے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں ملک میں قبل از وقت انتخابات منعقد ہوئے جن میں موجودہ صدر لی جے میونگ کامیاب ہوئے۔
سابق صدر اس وقت زیر حراست ہیں اور انہیں حالیہ فیصلے کے خلاف اپیل کا قانونی حق حاصل ہے۔









