استنبول میں گولڈن ہارن کے کنارے تاریخی بلغارین آرتھوڈوکس چرچ کی منفرد تعمیر

0
10
استنبول میں گولڈن ہارن کے کنارے تاریخی بلغارین آرتھوڈوکس چرچ کی منفرد تعمیر

استنبول کی تاریخی فضاؤں میں واقع گولڈن ہارن کے کنارے ایک منفرد اور دلکش گرجا گھر آج بھی ماضی کی دلچسپ کہانی سناتا ہے۔ یہ بلغارین آرتھوڈوکس کمیونٹی کی عبادت گاہ ہے جسے سلطنت عثمانیہ کے دور میں خصوصی انداز سے تعمیر کیا گیا تھا۔
انیسویں صدی میں استنبول میں مقیم بلغارین آرتھوڈوکس مسیحیوں نے اپنی عبادت کے لیے ایک محفوظ اور مستقل چرچ کی ضرورت محسوس کی اور اس حوالے سے عثمانی سلطان سے درخواست کی۔ اس وقت کے سلطان عبدالعزیز نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے ایک غیر معمولی تعمیراتی منصوبے کی اجازت دی۔
سن 1870 میں سرکاری فرمان جاری ہوا اور چرچ کا نقشہ تیار کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت چرچ کے مختلف حصے یورپ کے شہر ویانا اور آسٹریا میں تیار کیے گئے، جہاں جدید لوہے کے ڈھانچے کو خاص انداز سے ڈیزائن کیا گیا۔ بعد ازاں یہ بھاری اور نازک حصے بحیرۂ اسود کے راستے استنبول منتقل کیے گئے۔
استنبول کے علاقے بلاد میں گولڈن ہارن کے کنارے ان حصوں کو جوڑ کر ایک منفرد طرز کا گرجا گھر تعمیر کیا گیا جسے اپنی نوعیت کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تزئین و آرائش میں مقامی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ بلغاریہ سے منسلک فاؤنڈیشنز نے بھی حصہ لیا، جبکہ گرجا گھر کے بعض حصوں کو سونے کی تہہ سے مزین کیا گیا۔
یہ تاریخی عمارت آج بھی اپنی انجینئرنگ اور طرزِ تعمیر کی وجہ سے نمایاں ہے اور اسے دنیا کے ان چند آرتھوڈوکس گرجا گھروں میں شمار کیا جاتا ہے جو مکمل طور پر لوہے کے ڈھانچے سے تعمیر کیے گئے ہوں۔ بعد ازاں اس کی بحالی اور افتتاحی تقریبات میں ترکی اور بلغاریہ کی اعلیٰ قیادت نے بھی شرکت کی۔
یوں یہ چرچ نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتا ہے بلکہ استنبول کی کثیر الثقافتی تاریخ اور یورپ و ایشیا کے درمیان تعلقات کی ایک خوبصورت علامت بھی ہے۔

Leave a reply