
اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بنیادی طور پر پٹرولیم لیوی میں اضافے کی وجہ سے ہوا، جو آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے تحت ضروری قرار دیا گیا۔
یہ انکشاف پیر کے روز اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جہاں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں سے متعلق تفصیلی غور کیا گیا۔
وزیر پیٹرولیم نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بعض ممالک نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی، تاہم پاکستان کو آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق لیوی بڑھانا پڑی۔ ان کے مطابق بجٹ کے وقت آئی ایم ایف کے ساتھ 80 روپے فی لیٹر لیوی طے ہوئی تھی، لیکن بعد ازاں حالات کے پیش نظر پٹرول اور ڈیزل پر مجموعی طور پر 160 روپے لیوی وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اوگرا کو قیمتوں کے فرق کی مد میں 129 ارب روپے ادا کر چکی ہے جبکہ مزید ادائیگیاں ڈیجیٹل ڈیٹا کی جانچ کے بعد کی جائیں گی۔
اجلاس میں وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے بروقت فیصلے کیے گئے اور حال ہی میں بین الاقوامی تعاون کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کا ایک جہاز پاکستان پہنچا۔
دوران اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 73 ڈالر فی بیرل تھی تو قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ واضح کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا صرف لیوی میں اضافہ کیا گیا یا آئل کمپنیوں کو بھی اضافی منافع دیا گیا۔
کمیٹی اراکین نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد مجموعی ٹیکسز اور چارجز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا۔
وزارت پیٹرولیم حکام نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت میں 48 فیصد اضافہ ہوا جبکہ دیگر ممالک میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کے مطابق بھارت نے سرکاری ریفائنریوں کی بدولت 2022 میں قیمتیں منجمد رکھی تھیں جبکہ بنگلہ دیش خسارہ پورا کرنے کے لیے قرضوں کا سہارا لے رہا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے پرانے نظام کے بجائے بین الاقوامی قیمتوں سے منسلک نظام متعارف کروایا ہے اور اس وقت خام تیل کی خریداری پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ موٹر سائیکل سواروں کو اب بھی ای واؤچر کے ذریعے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔









