ویٹیکن اور امریکہ میں کشیدگی، ٹرمپ کے بیانات نے نیا تنازع کھڑا کر دیا

0
13
ویٹیکن اور امریکہ میں کشیدگی، ٹرمپ کے بیانات نے نیا تنازع کھڑا کر دیا

Donald Trump اور Pope Leo کے درمیان ایران اور امیگریشن پالیسیوں پر اختلافات نے سفارتی فضا کو کشیدہ کر دیا ہے، جس کے اثرات Marco Rubio کے متوقع ویٹیکن دورے پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
حالیہ بیان میں ٹرمپ نے پوپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ایران کے حوالے سے مؤقف نرم ہے اور اس طرح کے بیانات عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر سخت موقف اپنانا ضروری ہے۔
اس کے برعکس ویٹیکن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پوپ نے کبھی ایران کے جوہری ہتھیاروں کی حمایت نہیں کی۔ ویٹیکن حکام کا کہنا ہے کہ پوپ ہمیشہ امن، مکالمے اور جنگ سے گریز کی بات کرتے آئے ہیں۔
پوپ لیو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کیتھولک چرچ کی تعلیمات جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہیں، اور ان کا مؤقف مذہبی اصولوں پر مبنی ہے، نہ کہ کسی سیاسی ایجنڈے پر۔
ادھر مارکو روبیو اس ہفتے ویٹیکن کے دورے پر جا رہے ہیں، جہاں وہ دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال ان کے لیے ایک اہم سفارتی امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔
روبیو کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس معاملے پر عالمی اتفاق رائے ضروری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی داخلی سیاست میں بھی تناؤ بڑھ رہا ہے اور آئندہ انتخابات کے تناظر میں خارجہ پالیسی کے معاملات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

Leave a reply