
چینی سائنسدانوں نے ایک ایسی نئی ٹیکنالوجی پر پیشرفت کی ہے جس کے ذریعے فضائی آلودگی کا باعث بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو ایوی ایشن فیول میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
شنگھائی ایڈوانسڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ، چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو براہِ راست ہائیڈروکاربن میں بدلا جاتا ہے، جو طیاروں کے ایندھن کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پانی کے ساتھ ملا کر ایک ایسے عمل سے گزارا جس کے نتیجے میں اسے مائع ایندھن میں تبدیل کیا جا سکا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے باہر بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کی تیاری جاری ہے۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے ACS Catalysis میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس عمل میں کئی تکنیکی رکاوٹوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس ٹیکنالوجی کو صنعتی سطح پر کامیابی سے اپنایا گیا تو اس سے نہ صرف فوسل فیول پر انحصار کم ہوگا بلکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو دوبارہ قابل استعمال ایندھن میں بدل کر ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جا سکے گی۔









