دبئی سے مسقط تک “نورڈ” کا سفر عالمی توجہ کا مرکز

آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے باوجود ایک بڑی لگژری سپر یاٹ کی آمد و رفت نے توجہ حاصل کر لی ہے۔
شپنگ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 142 میٹر لمبی اور تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کی یاٹ “نورڈ” حال ہی میں اس اہم اور حساس سمندری راستے سے گزری۔ معلومات کے مطابق یہ یاٹ جمعہ کو دبئی کی ایک مرینا سے روانہ ہوئی، ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز عبور کی اور اتوار کو عمان کے شہر مسقط پہنچ گئی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق فروری سے ایران نے اس سمندری گزرگاہ میں آمد و رفت پر سخت نگرانی اور پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں، جس سے عالمی بحری تجارت پر بھی اثرات پڑ رہے ہیں۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس یاٹ کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یاٹ کا اندراج ایک روسی کمپنی کے نام پر ہے جس کا تعلق ایک بڑے کاروباری خاندان کے حلقوں سے جوڑا جاتا ہے، تاہم ملکیت کے حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق موجود نہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ مذکورہ روسی کاروباری شخصیت پر یوکرین جنگ کے بعد امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں۔ اس معاملے پر ان سے منسلک حلقوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
“نورڈ” دنیا کی بڑی اور پرتعیش یاٹس میں شمار کی جاتی ہے، جس میں متعدد لگژری سہولیات جیسے سوئمنگ پول، ہیلی پیڈ اور رہائشی سوئٹ شامل ہیں۔








