برطانیہ کا بڑا فیصلہ: نئی نسل کے لیے سگریٹ ہمیشہ کے لیے بند

0
33
برطانیہ کا بڑا فیصلہ: نئی نسل کے لیے سگریٹ ہمیشہ کے لیے بند

برطانیہ نے آئندہ نسلوں کو نکوٹین کی لت سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ایسا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت مستقبل میں سگریٹ کی خرید و فروخت بتدریج ناممکن بنا دی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ نے “ٹوبیکو اینڈ ویپس بل” کی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کے تحت سگریٹ خریدنے کی کم از کم عمر ہر سال ایک سال بڑھائی جائے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ یکم جنوری 2009 یا اس کے بعد پیدا ہونے والا کوئی بھی فرد اپنی زندگی میں کبھی قانونی طور پر تمباکو نہیں خرید سکے گا۔
یہ اقدام برطانیہ کو “سموک فری” ملک بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو سگریٹ نوشی اور نکوٹین کے نقصانات سے بچانا اور صحت کے نظام پر دباؤ کم کرنا ہے۔
نئے قانون میں صرف سگریٹ ہی نہیں بلکہ ویپنگ مصنوعات پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ 18 سال سے کم عمر افراد کو ویپ فروخت کرنا ممنوع ہوگا، جبکہ ان مصنوعات کی تشہیر، رعایتی پیشکشوں اور مفت تقسیم پر بھی پابندی ہوگی۔
مزید برآں، بچوں کے قریب ویپنگ پر بھی قدغن لگائی جائے گی، جس میں گاڑیوں میں بچوں کی موجودگی، اسکولوں کے اطراف، اسپتالوں کے قریب اور کھیل کے میدان شامل ہیں۔
حکام کے مطابق اس قانون سے نہ صرف ہزاروں جانیں بچائی جا سکیں گی بلکہ صحت کے شعبے پر آنے والے مالی بوجھ میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر سال سگریٹ نوشی کے باعث ہزاروں اموات اور بے شمار افراد اسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں، جس سے معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچتا ہے۔
حکومت پہلے ہی ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی عائد کر چکی ہے، جبکہ اس نئے قانون کے تحت ویپ کے ذائقوں اور پیکجنگ کو مزید سختی سے کنٹرول کیا جائے گا۔
توقع ہے کہ جلد ہی اس بل کو باضابطہ منظوری مل جائے گی، جس کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہو جائے گا۔ یہ اقدام عالمی سطح پر دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، جہاں عوامی صحت کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

Leave a reply