ایران نے آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے عارضی طور پر کھول دی
ایران نے لبنان میں حالیہ جنگ بندی کے بعد ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کی مدت کے دوران تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت اسی متعین اور مربوط راستے کے تحت ہوگی جس کا اعلان ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن پہلے ہی کر چکی ہے۔
یہ پیش رفت لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سامنے آئی ہے، جسے عالمی تجارت اور خصوصاً تیل کی ترسیل کے تسلسل کے لیے مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران اس سے قبل امریکا کے ساتھ مذاکرات میں لبنان میں جنگ بندی کو ایک اہم شرط کے طور پر پیش کر چکا تھا، تاہم امریکا اور اسرائیل نے لبنان کی صورتحال کو ان مذاکرات سے الگ رکھا تھا۔
یاد رہے کہ حالیہ جنگ بندی کا اعلان امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم اور لبنانی صدر سے رابطوں کے بعد کیا تھا۔
اس سے پہلے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا تھا کہ کسی بھی مخالف ملک کے جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
تازہ اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ خطے میں کشیدگی میں کمی آئے گی اور عالمی سطح پر تجارتی سرگرمیاں معمول پر آئیں گی۔







