چین کا مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے چار نکاتی فارمولا پیش

چین کے صدر نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کر دی ہے۔ یہ تجاویز بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد سے ملاقات کے دوران سامنے آئیں۔
چینی صدر نے اس موقع پر زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری انتہائی ضروری ہے اور ان قوانین کو مفادات کے مطابق استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف نہیں جانے دیا جا سکتا۔
انہوں نے اپنی تجاویز میں خلیجی ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، پرامن بقائے باہمی، قومی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اصول قرار دیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ حالیہ حالات کے اثرات چین کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں، جہاں توانائی کی درآمدات میں کمی اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ملاقات کے دوران چین اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
چین کی جانب سے یہ بھی عندیہ دیا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کو جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔








