لوگ بار بار نقصان دہ تعلقات کی طرف کیوں کھنچے چلے جاتے ہیں؟

ماہرین نفسیات کے مطابق، انسان اکثر ایسے رشتوں کی طرف مائل ہوتا ہے جو جذباتی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، اور یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ہمارے ذہن کے لاشعوری عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔
سوشل سائیکلوجی کی ماہر ڈاکٹر لیراز مارگلٹ کے مطابق، اس رجحان کی جڑ ہمارے اٹیچمنٹ پیٹرنز میں چھپی ہوتی ہے۔ یہ وہ نفسیاتی نمونے ہیں جو ہمیں ماضی کے جذباتی تجربات کی طرف بار بار لے آتے ہیں۔
ڈاکٹر مارگلٹ بتاتی ہیں کہ یہ عادات بچپن میں والدین کے ساتھ تعلقات سے جڑتی ہیں، اور انسان اپنے لاشعور میں ان ادھورے یا تلخ تجربات کو نئے رشتوں میں دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نتیجتاً، وہ ایسے تعلقات کی طرف مائل ہوتا ہے جہاں جذباتی تکلیف کا امکان زیادہ ہوتا ہے، تاکہ شاید وہ ماضی کے مسائل کو اس بار حل کر سکے۔
یہ لاشعوری رجحان اکثر ایک تباہ کن چکر کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جہاں انسان بار بار دکھ کے باوجود انہی تعلقات میں واپس چلا جاتا ہے۔
ڈاکٹر مارگلٹ کا کہنا ہے کہ اپنے اٹیچمنٹ پیٹرنز کو سمجھنا اور اپنی لاشعوری ترجیحات کا ادراک کرنا اس چکر کو توڑنے کا پہلا قدم ہے۔ جب انسان اپنے ماضی کے اثرات کو پہچان لیتا ہے، تو وہ شعوری طور پر خود کو نفسیاتی قید سے آزاد کر کے بہتر اور خوشگوار زندگی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔









