یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے اسرائیل پر پہلا میزائل حملہ

یمن کے ایران سے ہم آہنگ حوثی باغیوں نے ہفتے کے روز اسرائیل پر پہلی بار میزائل حملہ کیا، جس سے اس خطے میں جاری تنازعات میں ان کی براہِ راست شمولیت سامنے آئی۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے تصدیق کی کہ گروپ نے اسرائیل کے خلاف اپنا پہلا فوجی آپریشن کیا ہے۔
اسرائیل نے بتایا کہ اس نے یمن سے داغے گئے میزائل کا سرحد سے باہر ہی پتہ لگایا اور اسے ناکارہ بنایا۔ حوثیوں نے کہا کہ حملے متعدد میزائلوں کی شکل میں کیے گئے اور ان کا مقصد ایران، لبنان، عراق اور فلسطینی علاقوں میں جاری تنصیبات پر دباؤ ڈالنا تھا۔
حوثی گروپ نے واضح کیا کہ ان کے آپریشن اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تمام محاذوں پر جارحیت ختم نہیں ہو جاتی۔ اسرائیل کے فوجی حکام کے مطابق یہ اقدام ایران کی حمایت میں حوثیوں کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یمن کی جانب سے اس قسم کے حملے اس خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اور وسیع تر علاقائی جنگ کے خدشات کو جنم دے سکتے ہیں، کیونکہ حوثی گروپ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیجی پانیوں میں اہم تنصیبات اور شپنگ لائنز کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی سرگرمیاں ایران یا حزب اللہ کے تابع نہیں بلکہ بنیادی طور پر داخلی سیاسی ایجنڈے پر مرکوز ہیں، تاہم وہ ایران اور حزب اللہ کے ساتھ سیاسی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔









