ایران کے اہم جزائر اور امریکی افواج کی ممکنہ تعیناتی

0
57
ایران کے اہم جزائر اور امریکی افواج کی ممکنہ تعیناتی

مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی ممکنہ نقل و حرکت کے پیشِ نظر ایران کے آبنائے ہرمز کے قریب واقع سات اہم جزائر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ یہ جزائر بحرِ ہند اور خلیج فارس میں تجارتی اور تیل بردار بحری جہازوں کے لیے کلیدی راستے پر واقع ہیں۔
یہ جزائر ابو موسیٰ، گریٹر تنب، لیسر تنب، ہنگام، قشم، لارک اور ہرمز شامل ہیں، جو ایران کے دفاعی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور بحری ٹریفک کی نگرانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ابو موسیٰ اور تنب کے جزائر بڑی جنگی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے محدود گزرگاہیں فراہم کرتے ہیں، جو انہیں ممکنہ ہدف بھی بنا سکتی ہیں۔
ایرانی حکام ان جزائر کو عسکری اعتبار سے مضبوط قرار دیتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ عرصے میں ان پر اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب، اطلاعات کے مطابق امریکہ نے تقریباً 4 ہزار میرینز اور 82ویں ایئربورن ڈویژن کے 1000 اہلکار خطے کی جانب روانہ کیے ہیں۔
عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان جزائر پر قبضہ بحری یا فضائی کارروائی کے ذریعے ممکن ہے، لیکن ایران کے میزائل، ڈرون اور دفاعی نظام کارروائی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ جزیرہ لارک کو اس سلسلے میں اہم رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ممکنہ آپریشن کی مدت دو دن سے دو ہفتے تک ہو سکتی ہے اور قبضے کے بعد تقریباً 2000 فوجیوں کی مستقل تعیناتی درکار ہوگی۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایرانی سرزمین سے میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات امریکی افواج کو طویل اور مہنگی لڑائی میں الجھا سکتے ہیں۔ اس دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی ہدف پر ممکنہ حملے کی ڈیڈ لائن 6 اپریل تک بڑھا دی ہے، اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان جزائر پر قبضہ حاصل کرنا تزویراتی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن سیاسی نتائج پیچیدہ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ ملکیت کے تنازع کی وجہ سے۔ موجودہ حالات میں ہر آپشن میں خطرات، اخراجات اور غیر متوقع نتائج کا توازن موجود ہے۔

Leave a reply