ایرانی سائبر حملوں میں شدت، امریکی نیٹ ورکس نشانے پر

0
59
ایرانی سائبر حملوں میں شدت، امریکی نیٹ ورکس نشانے پر

ایران سے منسلک ہیکرز نے امریکی تحقیقاتی ادارے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ کو نشانہ بنا کر مبینہ طور پر حساس معلومات اور تصاویر انٹرنیٹ پر جاری کر دی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیکر گروپ اور امریکی حکام دونوں نے تصدیق کی ہے کہ متعلقہ اہلکار کے ذاتی ای میل ان باکس تک غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی۔ خود کو “ہندالہ ہیک ٹیم” کہنے والے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہیکنگ میں کامیاب رہے اور متاثرہ فرد کو اپنی ہدف فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

ہیکرز کی جانب سے جاری کردہ مواد میں درجنوں ذاتی تصاویر شامل ہیں، جبکہ 300 سے زائد ای میلز کے نمونے بھی سامنے لانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ ای میلز مبینہ طور پر 2010 سے 2019 کے درمیان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ خط و کتابت پر مشتمل ہیں۔

ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لے کر ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق لیک ہونے والا مواد پرانا ہے اور اس میں کوئی حساس سرکاری معلومات شامل نہیں۔

سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق “ہندالہ ہیک ٹیم” خود کو فلسطین نواز گروپ ظاہر کرتی ہے، تاہم امکان ہے کہ اس کے روابط ایرانی سائبر انٹیلی جنس نیٹ ورکس سے ہوں۔ اس گروپ نے حالیہ ہفتوں میں ایک طبی آلات بنانے والی کمپنی اور ایک بڑی دفاعی فرم سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنے کے دعوے بھی کیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں سائبر دباؤ بڑھانے اور مخالفین کو غیر محفوظ محسوس کرانے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے ساتھ ایسے سائبر حملوں میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید برآں، بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہیکرز کے پاس مزید ڈیٹا موجود ہو سکتا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

Leave a reply