ایران کا بڑا فیصلہ: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس کی تیاری

0
32
ایران کا بڑا فیصلہ: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس کی تیاری

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ میں ایک مسودہ زیر غور ہے جس کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز سے فیس وصول کی جا سکے گی۔ متعلقہ حکام کا مؤقف ہے کہ چونکہ ایران اس راستے کی سیکیورٹی یقینی بنانے میں کردار ادا کرتا ہے، اس لیے فیس کا نفاذ ایک معمول کی بات ہے، جیسا کہ دیگر بین الاقوامی تجارتی راستوں پر بھی کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی نئی پابندی یا رکاوٹ عالمی منڈی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی خطے سے یومیہ کروڑوں بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کا زیادہ تر حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں عالمی تیل مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ قیمتوں میں اضافہ بھی متوقع ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بعض ممالک کی جانب سے اسٹریٹیجک ذخائر کے استعمال سے وقتی طور پر مارکیٹ کو سہارا دیا جا سکتا ہے، تاہم طویل مدت میں سپلائی کے مسائل برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق صورتحال کا دارومدار خطے میں کشیدگی کے دورانیے پر ہوگا۔
ادھر عالمی سطح پر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت متاثر ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ عالمی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور توانائی کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

Leave a reply