
عالمی سفارت کاری کے تناظر میں پاکستان کی حالیہ پیش رفت پر مختلف سیاسی و صحافتی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی موجودگی کو بہتر بنایا ہے، جبکہ بھارت کی خطے میں سفارتی حکمتِ عملی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں اثر و رسوخ سے متعلق روایتی بیانیے میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے اور بھارت کی خارجہ پالیسی پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
کانگریس کے رہنما راہول گاندھی سے منسوب بیانات میں بھارتی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ حکمتِ عملی میں توازن اور خودمختاری کے حوالے سے کمزوریاں موجود ہیں۔
اسی طرح کانگریس رہنما پون کھیڑا کے حوالے سے بھی یہ ردِعمل سامنے آیا ہے کہ حکومتی بیانیے اور زمینی حقائق میں فرق پایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو بعض تجزیہ کار ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر خطے کی سیاست میں سفارتی سرگرمیوں اور بیانیوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے، اور ماہرین کے مطابق صورتحال مسلسل تبدیلی کے مرحلے میں ہے۔









