
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے بڑے ریٹیلرز کو جدید ڈیجیٹل نظام کے ساتھ جوڑنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں 12 ہزار 861 بڑے ریٹیل کاروباروں کو پوائنٹ آف سیل سسٹم سے منسلک کیا جا چکا ہے، جبکہ ان کاروباروں کی مجموعی شاخوں کی تعداد 35 ہزار سے زائد ہے۔ یہ اقدام ٹیکس ریکارڈ کو شفاف بنانے اور سیلز ٹیکس کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ٹیئر ون ریٹیلرز، جن میں بڑے شاپنگ سینٹرز، ٹیکسٹائل اور لیدر سیکٹر کے کاروبار اور ریسٹورنٹس شامل ہیں، کو مرحلہ وار ڈیجیٹل انوائسنگ اور کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ ان کاروباروں کی رجسٹریشن کا عمل بھی جاری ہے اور آئندہ دو برسوں میں تقریباً 40 ہزار بڑے ریٹیلرز کو مکمل طور پر اس نظام میں شامل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں ٹیئر ون ریٹیلرز پہلے ہی رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں بڑے ریسٹورنٹس اور ان کی متعدد شاخیں بھی POS نظام کا حصہ بن چکی ہیں۔ اسی طرح ٹیکسٹائل اور لیدر سیکٹر سے وابستہ کاروباروں کی بڑی تعداد بھی اس ڈیجیٹل نیٹ ورک سے منسلک کی جا رہی ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے تمام فروخت کا ڈیٹا براہ راست سرکاری ریکارڈ میں منتقل ہوگا، جس سے ٹیکس چوری کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ قواعد کی خلاف ورزی پر کاروباری اداروں کو جرمانوں اور دیگر سخت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔









