آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے امریکی اپیل، بڑے ممالک محتاط مؤقف پر قائم

0
48
آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے امریکی اپیل، بڑے ممالک محتاط مؤقف پر قائم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے لیے عالمی تعاون کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بڑے ملک نے خطے میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ جاپان، آسٹریلیا اور برطانیہ نے اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے فوری فوجی شرکت سے گریز کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتحادی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اہم بحری راستے کی حفاظت کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار اسی گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس اہم راستے کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے فی الحال آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے امریکی صدر کو آگاہ کیا ہے کہ برطانیہ اس مرحلے پر مجوزہ آپریشن میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں۔
اسی طرح آسٹریلیا کی وزیر ٹرانسپورٹ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق آسٹریلیا متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے دفاعی تعاون کے تحت طیارے فراہم کر رہا ہے، تاہم بحری جہاز بھیجنا موجودہ منصوبے کا حصہ نہیں۔
جاپان کی وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ جاپان نے تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق حکومت اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جاپان اپنے قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کیا اقدامات کر سکتا ہے۔
چین نے بھی امریکی اپیل پر باضابطہ ردعمل دینے کے بجائے محتاط مؤقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ متعلقہ فریقین سے رابطے بڑھا کر تعمیری کردار ادا کرے گا۔ دوسری جانب جنوبی کوریا بھی صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے جبکہ فرانس پہلے ہی اس علاقے میں بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر چکا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی سکیورٹی کے لیے ایک کثیر ملکی اتحاد بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کا باضابطہ اعلان رواں ہفتے کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بعض ممالک نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مشترکہ تعاون پر ابتدائی طور پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

Leave a reply