
اسلام آباد: شہباز شریف نے خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر ملک میں غذائی اشیاء کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ضروریات کو متاثر کیے بغیر خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی برآمد بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔
اتوار کو وزیرِاعظم کی زیر صدارت ایک اجلاس میں ملک میں غذائی صورتحال اور اضافی زرعی و غذائی مصنوعات کی برآمدات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں مختلف اشیائے خورونوش کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی چیز کی قلت کا سامنا نہیں ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں زرعی اجناس، گوشت، پولٹری، ڈیری اور سی فوڈ سمیت متعدد شعبوں میں برآمدات بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ عالمی سپلائی چینز میں رکاوٹوں کے باعث خطے میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال میں خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں اشیائے خورونوش کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
وزیرِاعظم نے ہدایت دی کہ خلیجی ممالک کو غذائی اشیاء برآمد کرتے وقت اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بحری راستے سے اشیائے خورونوش کی برآمد بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صورتحال کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جو روزانہ کی بنیاد پر غذائی ذخائر اور برآمدات کا جائزہ لے گی۔ اس کے ساتھ خلیجی ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں اور تجارتی افسران کو بھی اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر وفاقی وزراء، اعلیٰ سرکاری حکام، صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔









