
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں۔
ملک میں پٹرول پمپ مالکان کی نمائندہ تنظیم، آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ تیل کی محدود سپلائی کا نوٹس لیا جائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیاں سپلائی آرڈرز منسوخ کر رہی ہیں اور اپنی جانب سے کوٹہ مقرر کر رہی ہیں، جس سے مارکیٹ میں قلت کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ تنظیم نے حکومت سے بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل (Brent crude oil) کی قیمت ایک ڈالر سے زائد اضافے کے بعد 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (West Texas Intermediate) بھی بڑھ کر 75 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کرتا رہا۔
توانائی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیداوار اور ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی خبریں سامنے آئیں۔ اسی دوران عراق، جو اوپیک کا اہم رکن ہے، نے برآمدی مسائل اور ذخیرہ گنجائش کی کمی کے باعث یومیہ پیداوار میں نمایاں کمی کی اطلاع دی ہے۔
اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ جہاز رانی میں رکاوٹوں کی اطلاعات کے بعد توانائی منڈیوں میں بے یقینی بڑھی، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ ٹینکروں کو سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہے، قیمتوں میں وقتی استحکام دیکھا گیا۔
ادھر Saudi Aramco متبادل برآمدی راستوں پر غور کر رہی ہے، جبکہ بھارت اور انڈونیشیا نے دیگر سپلائرز سے رابطے شروع کیے ہیں۔ چین کی بعض ریفائنریوں میں عارضی بندش یا مرمت کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔
امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں حالیہ ہفتے کے دوران نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے، جس کے سرکاری اعداد و شمار کا انتظار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان، پر براہ راست پڑیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی ممکنہ بحران سے بروقت نمٹا جا سکے۔









