رمضان میں معمولی غفلت صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے!

0
32
رمضان میں معمولی غفلت صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے!

رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیاں شروع ہو چکی ہیں اور مسلمان اس مقدس مہینے کا روحانی جوش و خروش سے استقبال کر رہے ہیں۔ یہ مہینہ نہ صرف عبادات، صبر اور تقویٰ کا پیغام دیتا ہے بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت پر توجہ دینے کا بھی بہترین موقع فراہم کرتا ہے تاکہ پورا مہینہ توانائی اور تندرستی کے ساتھ گزارا جا سکے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ روزے کے دوران جسم میں پانی کی کمی ایک عام مسئلہ بن سکتی ہے، اس لیے افطار سے سحری تک مناسب وقفوں سے پانی پینا ضروری ہے۔ پانی کے ساتھ ساتھ ایسی غذاؤں کا استعمال بھی مفید ہے جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو، جیسے خربوزہ، کھیرا اور ہلکے سوپ، تاکہ جسم ڈی ہائیڈریشن سے محفوظ رہے۔
افطار اور سحری میں متوازن غذا کا انتخاب بے حد اہم ہے۔ غذا میں کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، صحت بخش چکنائیاں اور فائبر شامل ہونا چاہیے تاکہ دن بھر توانائی برقرار رہے۔ تلی ہوئی اور بہت زیادہ میٹھی اشیاء کا کثرت سے استعمال معدے کے مسائل اور سستی کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔
سحری کے وقت ایسی غذائیں کھانے کی تجویز دی جاتی ہے جو دیرپا توانائی فراہم کریں، جیسے دلیہ، انڈے، دہی اور روٹی۔ زیادہ نمکین یا کیفین والی اشیاء پیاس میں اضافہ کر سکتی ہیں، اس لیے ان کا استعمال محدود رکھنا بہتر ہے۔
ہلکی جسمانی سرگرمی بھی صحت مند معمول کا حصہ ہونی چاہیے۔ افطار کے بعد ہلکی چہل قدمی یا سادہ اسٹریچنگ جسم میں خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور طبیعت کو خوشگوار رکھتی ہے۔ تاہم سخت اور مشقت طلب ورزش سے گریز کرنا چاہیے۔
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ افطار کے وقت جلد بازی سے کھانے کے بجائے آہستگی سے اور اچھی طرح چبا کر کھایا جائے تاکہ نظامِ ہضم بہتر رہے اور پرخوری سے بچا جا سکے۔ روزمرہ کے مینو میں پھل، سبزیاں، دالیں اور خشک میوہ جات شامل کرنا قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔
کھانے کی تیاری اور استعمال کے دوران صفائی کا خاص خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ ہاتھوں اور باورچی خانے کی صفائی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
رمضان ذہنی سکون اور روحانی بالیدگی کا مہینہ ہے۔ گہری سانسوں کی مشق، عبادت، مراقبہ اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روزے کے دوران شدید کمزوری، چکر یا غیر معمولی پیاس محسوس ہو تو اپنی خوراک اور معمولات پر نظرثانی کی جائے۔ بالخصوص دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد اور باقاعدگی سے ادویات استعمال کرنے والے مریض روزہ رکھنے سے قبل معالج سے مشورہ ضرور کریں، جبکہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے طبی رہنمائی خاص اہمیت رکھتی ہے۔
رمضان المبارک کا اصل فائدہ اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب روحانی عبادات کے ساتھ جسمانی صحت کا بھی بھرپور خیال رکھا جائے۔ مثبت سوچ، متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ اس مبارک مہینے کو گزارنا ہر فرد کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a reply