ایپسٹین فائلز میں ذکر کے بعد میڈلین میک کین کیس پھر توجہ کا مرکز

0
14
ایپسٹین فائلز میں ذکر کے بعد میڈلین میک کین کیس پھر توجہ کا مرکز

امریکا میں جاری نئی عدالتی دستاویزات میں برطانوی بچی میڈلین میک کین کا نام سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ ذکر بدنام مقدمات سے جڑی دستاویزات، جنہیں عام طور پر جیفری ایپسٹین سے منسوب فائلز کہا جاتا ہے، میں ایک غیر مصدقہ گواہی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک گواہ نے سن 2020 میں فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) سے رابطہ کر کے دعویٰ کیا کہ اس نے 2009 میں ایک ایسی خاتون کو دیکھا جو گسلین میکسویل سے مشابہ تھی اور اس کے ساتھ موجود ایک کمسن بچی حیران کن حد تک میڈلین سے ملتی جلتی دکھائی دیتی تھی۔
گواہ کے مطابق خاتون تقریباً چھ سالہ بچی کا ہاتھ پکڑے تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی اور بظاہر بے چینی کا اظہار کر رہی تھی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ بچی مسلسل اپنی دائیں آنکھ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی اور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی۔ گواہ نے بعد میں اس واقعے کا ذکر ایک ویب سائٹ پر کیا، تاہم اس وقت پولیس کو اطلاع نہیں دی گئی۔ برسوں بعد سوشل میڈیا پر میکسویل سے متعلق خبریں دیکھنے کے بعد اس نے حکام کو آگاہ کیا۔
میڈلین کی دائیں آنکھ میں کولوبوما نامی ایک نایاب طبی کیفیت تھی، جس کے باعث آنکھ کی پتلی پر نمایاں سیاہ نشان دکھائی دیتا تھا۔ یہی خصوصیت عوامی اپیلوں میں بھی نمایاں کی جاتی رہی ہے۔ 2009 میں میڈلین کی عمر تقریباً چھ سال بنتی تھی، جو گواہ کے بیان کردہ بچے کی عمر سے مطابقت رکھتی ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ میڈلین 3 مئی 2007 کو پریا دا لوز کے ایک ریزورٹ سے لاپتا ہوئی تھیں۔ اس وقت وہ اپنے والدین کے ہمراہ پرتگال میں چھٹیاں گزار رہی تھیں۔ واقعے کے بعد مقامی اور بین الاقوامی سطح پر وسیع تلاش شروع کی گئی، مگر طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ان کا سراغ نہیں مل سکا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دستاویزات میں میڈلین کا ذکر صرف ایک پرانی اور غیر مصدقہ گواہی تک محدود ہے، اور اس بنیاد پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔ کیس بدستور تفتیشی مراحل میں ہے اور سرکاری سطح پر کسی نئے ثبوت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

Leave a reply