ایپسٹین کی موت پر دوبارہ سوالات، پوسٹ مارٹم مبصر کا نیا بیان

0
37
ایپسٹین کی موت پر دوبارہ سوالات، پوسٹ مارٹم مبصر کا نیا بیان

بدنام زمانہ امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین کی 2019 میں جیل میں موت کے بارے میں ایک مرتبہ پھر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایپسٹین کے خاندان کی جانب سے پوسٹ مارٹم کے دوران موجود رہنے والے فرانزک ماہر مائیکل بیڈن نے حال ہی میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایپسٹین کی موت پھانسی کے نتیجے میں نہیں ہوئی بلکہ گلا دبائے جانے کی وجہ سے ہوئی۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر بیڈن نے کہا کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں موت دباؤ کے ذریعے سانس رکنے کی وجہ سے ہوئی اور اس کیس کی مکمل دوبارہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ایپسٹین کو جنسی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا اور وہ نیو یارک کی جیل میں قید تھے، جہاں ان کا مردہ جسم پایا گیا۔ اس وقت نیویارک میڈیکل ایگزامنر آفس نے موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔
ڈاکٹر بیڈن خود پوسٹ مارٹم کرنے والے نہیں تھے، لیکن وہ اس دوران مبصر کے طور پر موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر وہ اور میڈیکل ایگزامنر دونوں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید شواہد کی ضرورت ہے۔ بعد میں اس وقت کی چیف میڈیکل ایگزامنر نے موت کو خودکشی قرار دیا۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق ایپسٹین کی گردن میں تین ہڈیوں کے فریکچر تھے، جن میں ہائیوئیڈ بون اور تھائیرائیڈ کارٹلیج شامل ہیں۔ ڈاکٹر بیڈن نے کہا کہ اپنے 50 سالہ کیریئر میں انہوں نے کبھی خودکشی کے کسی کیس میں گردن کے اتنے فریکچر نہیں دیکھے، خاص طور پر جیل میں ہونے والی اموات میں۔
ایپسٹین کے وکلا بھی اس رپورٹ سے مطمئن نہیں تھے اور ڈاکٹر بیڈن نے 2019 میں امریکی میڈیا کو بتایا تھا کہ شواہد قتل کے امکانات کی طرف زیادہ اشارہ کرتے ہیں۔
بعد میں امریکی محکمہ انصاف کی رپورٹ میں میٹروپولیٹن اصلاحی مرکز میں سیکیورٹی کی سنگین کوتاہیوں کا انکشاف ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ایپسٹین کے سیل میں اضافی کمبل اور کپڑے موجود تھے، جن میں سے کچھ کو پھندے کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا تھا، اور معمول کے چیک اپ صحیح طرح نہیں ہوئے۔
مزید برآں، موت سے ایک دن قبل ایپسٹین کے سیل میٹ کو منتقل کر دیا گیا تھا اور نیا قیدی نہیں رکھا گیا۔ ویڈیو ریکارڈز سے معلوم ہوا کہ رات کے وقت لازمی چیک اپ نہیں کیے گئے اور بعد میں ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیا۔ اگلی صبح دو گارڈز نے ایپسٹین کو بے ہوش حالت میں پایا، جس کی گردن میں نارنجی کپڑا باندھا ہوا تھا۔ اسے اسپتال لے جایا گیا، جہاں موت کی تصدیق ہوئی۔ بعد میں دونوں گارڈز پر ریکارڈ میں جعل سازی کے الزامات لگے۔
تحقیقات کے دوران ایک ویڈیو میں ’نارنجی جھلک‘ دیکھی گئی، جسے ایف بی آئی نے ممکنہ قیدی قرار دیا، جبکہ انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں اسے ایک نامعلوم جیل اہلکار بتایا گیا۔ اس وقت کے امریکی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس رات کوئی بھی ایپسٹین کے سیل میں داخل نہیں ہوا۔
اب ڈاکٹر بیڈن کی نئی اپیل کے بعد یہ معاملہ دوبارہ زیر بحث آ گیا ہے اور امکان ہے کہ ایپسٹین کی موت کا کیس، جو پہلے بند سمجھا جا رہا تھا، دوبارہ کھل سکتا ہے۔

Leave a reply