
گھر کے میڈیسن کیبنٹ میں رکھی اینٹی سیپٹک بوتلیں اکثر سالوں تک بغیر استعمال پڑی رہ جاتی ہیں، کیونکہ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ دوائیں بیرونی استعمال کے لیے ہیں اور میعاد ختم ہونے کے بعد بھی محفوظ رہتی ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ میعاد ختم ہونے کے بعد اینٹی سیپٹکس کی جراثیم کش صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس سے زخم میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور زخم بھرنیکاعمل سست پڑسکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق اگر اینٹی سیپٹک اپنی مؤثر صلاحیت کھو دے تو بیکٹیریا زخم میں بڑھ سکتے ہیں، اور بعض صورتوں میں محلول کی کیمیائی ساخت میں تبدیلی جلد میں جلن یا سوزش پیدا کر سکتی ہے، جو صحت مند بافتوں کو نقصان پہنچا کر بھرنے کے عمل میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔
خصوصاً وہ اینٹی سیپٹکس جن میں آیوڈین، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ یا کلورہیکسیڈین شامل ہوں، یا الکحل پر مبنی محلول، وقت کے ساتھ اپنی طاقت کھو دیتے ہیں۔
اگر کسی نے غلطی سے میعاد ختم شدہ اینٹی سیپٹک استعمال کر لیا ہو تو ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے زخم کو صاف پانی اور ہلکے صابن سے دھوئیں، اور پھر تازہ اینٹی سیپٹک لگائیں۔
زخم میں سرخی، سوجن، گرمی، درد، پیپ یا بخار جیسی علامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر زخم بڑا، گہرا یا بھرنے میں دیر کر رہا ہو تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے، کیونکہ تاخیر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ انفیکشن سے بچاؤ اور زخم کے جلد بھرنے کے لیے ہمیشہ نئی اور مؤثر اینٹی سیپٹک استعمال کرنا سب سے محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے۔








