رمضان سے قبل دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ممکن ہے، وزیر دفاع

0
33
رمضان سے قبل دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ممکن ہے، وزیر دفاع

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو رمضان سے پہلے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ایک انٹرویو اور بعد ازاں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے افغانستان کی موجودہ صورتحال، سکیورٹی چیلنجز اور ملکی سیاست پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مسلسل سرحد پار سے خطرات لاحق ہیں اور دہشت گرد عناصر کو روکنا افغان حکام کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے میں سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو اسے چشم پوشی تصور کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ریاست اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
قومی اسمبلی میں گفتگو کے دوران انہوں نے محمود خان اچکزئی کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں پاک فوج سے متعلق تنقیدی الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ وزیر دفاع نے ایسے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے، تاہم قومی اداروں پر الزامات سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے قومی یکجہتی متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2021 سے فروری 2026 تک 170 افسران نے جان کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ جونیئر کمیشنڈ افسران اور جوانوں میں 212 اور مجموعی طور پر 2759 اہلکار شہید ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار ملک کی سلامتی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزیر دفاع کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 200 سے زائد دہشت گرد مارے گئے ہیں اور یہ اقدامات امن و امان کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔
سیاسی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ سیاست دان ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں وابستگیاں تبدیل ہو سکتی ہیں، مگر وطن پر جان نچھاور کرنے والے اہلکار اپنے عہد اور وفاداری پر قائم رہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔

Leave a reply