جب سانسیں نیلام ہو جائیں

مریض بے ہوش ہے۔ آنکھیں بند، جسم بے جان، سانسیں مشین کے رحم و کرم پر۔ آکسیجن لگی ہوئی ہے اور ہر گزرتا لمحہ قیمتی ہے۔ ڈاکٹر صاف لفظوں میں کہہ چکے ہیں:
“یہاں مزید علاج ممکن نہیں رہا،اسکو فوراًدوسرےاسپتال منتقل کریں۔”
یہ جملہ سنتے ہی ایک نئی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔
یہ جنگ بیماری سے نہیں، وقت سے نہیں—بلکہ ایک مافیا سے ہوتی ہے۔
یہ کوئی فرضی کہانی نہیں، نہ کسی ویران گاؤں کا قصہ ہے۔ یہ راولپنڈی جیسے بڑے شہر کی حقیقت ہے، جہاں دل کے مریضوں کے لیے مخصوص اسپتال سے چند کلومیٹر دور دوسرے سرکاری اسپتال تک پہنچنا، لواحقین کے لیے ایک اعصاب شکن آزمائش بن جاتا ہے۔
یہ آزمائش پیسوں کی نہیں ہوتی…
یہ عزت، بے بسی اور انسانیت کی آزمائش ہوتی ہے۔
ڈاکٹرز کی ہدایت واضح تھی:
مریض کو آکسیجن والی ایمبولینس درکار ہے۔
یہ کوئی لگژری نہیں، یہ زندگی کی بنیادی شرط ہے۔
اسپتال کے باہر ایمبولینسز کھڑی ہیں۔ سفید رنگ، فلاحی نعروں سے مزین، بظاہر خدمت کے لیے تیار۔ مگر قریب جا کر احساس ہوتا ہے کہ یہ خدمت نہیں—یہ کاروبار ہے۔
اور وہ بھی ایسا کاروبار جو مجبوری، خوف اور موت پر پلتا ہے۔
یہاں کوئی سرکاری نظام نہیں۔
کوئی ریٹ لسٹ نہیں۔
کوئی ضابطہ نہیں۔
یہاں صرف ایمبولینس مافیا ہے۔
راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے بینظیر بھٹو اسپتال کا فاصلہ دو کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ عام گاڑی چند منٹ میں پہنچ جائے۔ مگر ایمبولینس والوں کے لیے یہ دو کلومیٹر نہیں—یہ سنہری موقع ہے۔
کہیں سات ہزار کا مطالبہ،
کہیں چھ ہزار،
کہیں “حالات خراب ہیں، ریٹ زیادہ ہے”۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک انسان اپنی عزتِ نفس جیب میں ڈال کر بارگیننگ پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ایک طرف مریض زندگی اور موت کے درمیان،
دوسری طرف لواحقین قیمت طے کر رہے ہیں۔
آخرکار طویل بحث کے بعد چار ہزار پر بات طے ہوتی ہے۔
سوچیے—
دو کلومیٹر، ایک ایمرجنسی، اور چار ہزار روپے۔
یہ صرف لوٹ مار نہیں، یہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
مریض کو ایک اسپتال پہنچایا جاتا ہے، مگر وہاں بھی سہولتیں جواب دے جاتی ہیں۔ کبھی ڈاکٹر نہیں، کبھی بیڈ نہیں۔ آخر فیصلہ ہوتا ہے کہ مریض کو ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا جائے۔
اب ایک بار پھر وہی ایمبولینس،
وہی لوگ،
وہی موقع۔
پانچ کلومیٹر کا کل فاصلہ—
مگر مزید دو ہزار روپے “اضافی”۔
یوں چند کلومیٹر کا سفر، سو کلومیٹر کا کرایہ بن جاتا ہے۔
ایمبولینس کے اندر مریض آخری سانسیں لے رہا ہے،
اور باہر مافیا آخری ریٹ فائنل کر رہا ہے۔
پھر وہ لمحہ آتا ہے جس کا سب کو خوف تھا۔
مریض زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے۔
گھر والوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔
آنکھیں نم، دل خالی، ذہن مفلوج۔
مگر یہاں بھی ریاست غائب ہے۔
اب میت کو گھر منتقل کرنا ہے—
اور اس “منتقلی” کے لیے بھی دوبارہ اسی مافیا سے واسطہ پڑتا ہے۔
یہاں رحم کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ لاش اب انسان نہیں—
یہ ٹرانسپورٹ آئٹم ہے۔
ریٹس دوبارہ لگتے ہیں،
بارگیننگ دوبارہ ہوتی ہے،
اور لواحقین، جو ابھی صدمے میں ہیں،
خاموشی سے قیمت ادا کر دیتے ہیں۔
کیونکہ غم کے عالم میں بحث کی طاقت نہیں ہوتی۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ فلاحی اداروں کی ایمبولینسز موجود ہیں۔
یہ سچ ہے، اور ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔
مگر ایمرجنسی میں وہ ہر وقت دستیاب نہیں ہوتیں۔
اور ایمرجنسی انتظار نہیں کرتی۔
اصل سوال ریاست سے ہے۔
جب اربوں روپے بس سروسز، میٹرو، اور رنگ برنگے منصوبوں پر لگ سکتے ہیں،
تو ہر سرکاری اسپتال میں مکمل سہولیات سے لیس ایمبولینس یونٹ کیوں نہیں؟
کیوں مریض کی منتقلی ریاست کی ذمے داری نہیں؟
کیوں میت کو باعزت گھر پہنچانا ایک کاروبار بن چکا ہے؟
اگر ریاست چاہے تو:
ہر اسپتال میں ایمبولینس یونٹ قائم ہو سکتا ہے
ریٹس فکس ہو سکتے ہیں
مافیا کو ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے
شکایات کا مؤثر نظام بن سکتا ہے
یہ سب ممکن ہے—
بس ارادے کی کمی ہے۔
ایک مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے جو اپنے شہری کو اس کے کمزور ترین لمحے میں تنہا نہ چھوڑے۔
زندگی اور موت کے بیچ کھڑا انسان، ریٹ لسٹ دیکھنے پر مجبور نہ ہو۔
اگر ہم واقعی فلاحی ریاست بننا چاہتے ہیں
تو اس کی شروعات ایمبولینس کے دروازے سے ہونی چاہیے—
نہ کہ صرف بس اسٹاپ سے۔









