
سائنسدان ایک نئے دریافت شدہ سیارچے، 2024 YR4، پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جس کے دسمبر 2032 میں چاند سے ٹکرانے کا امکان تقریباً چار فیصد بتایا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر یہ سیارچہ واقعی چاند سے ٹکرا گیا تو اس سے درمیانے درجے کے تھرمو نیوکلیئر دھماکے کے برابر توانائی خارج ہوگی، جس کے نتیجے میں چاند کی سطح پر تقریباً ایک کلومیٹر چوڑا گڑھا بن سکتا ہے اور پانچ درجے کے برابر زلزلہ جیسا اثر محسوس ہو سکتا ہے۔
یہ سیارچہ اندازاً ساٹھ میٹر چوڑا ہے، اور ٹکراؤ کے بعد چاند کی سطح سے بڑی مقدار میں ملبہ خلا میں بکھر جائے گا۔ اس ملبے کا کچھ حصہ چند دنوں بعد زمین کی طرف آ سکتا ہے اور فضا میں داخل ہوتے وقت شدید شہابی بارش کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو جنوبی امریکہ، شمالی افریقہ اور جزیرہ نما عرب کے علاقوں میں عام آنکھ سے بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ زمین کی طرف آنے والا ملبہ بعض جگہوں پر نقصان دہ ہو سکتا ہے اور خلا میں موجود سیٹلائٹس کو بھی خطرہ لاحق کر سکتا ہے، جس سے عالمی مواصلاتی اور نیویگیشن نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
سنگھوا یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق، ایسا واقعہ چاند کے اندرونی ڈھانچے کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے، تاہم زمین اور خلائی نظاموں کی حفاظت بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ مختلف خلائی ادارے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اس سیارچے کا راستہ بدلنے کے لیے کوئی مشن بھیجا جائے یا نہیں۔
سائنسدان توقع کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں مزید مشاہدات کے بعد اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔







