’دشت‘ کے دوران درپیش چیلنجز پر ایوب کھوسو کا کھل کر اظہار

0
84
’دشت‘ کے دوران درپیش چیلنجز پر ایوب کھوسو کا کھل کر اظہار

پاکستانی ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار ایوب کھوسو نے اپنے فنی کیریئر کے ایک یادگار مگر چیلنجنگ تجربے کو حال ہی میں یاد کیا ہے۔ چار دہائیوں پر مشتمل اپنے طویل سفر میں انہوں نے متعدد مضبوط اور سنجیدہ کردار نبھائے، جن کے باعث انہیں منفرد مقام حاصل ہوا۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایوب کھوسو حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے 1990 کی دہائی کے مشہور ڈرامہ سیریل ’دشت‘ سے جڑی دلچسپ یادیں ناظرین کے ساتھ شیئر کیں۔
’دشت‘ کو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے ان کلاسک منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے جو مضبوط کہانی، بامعنی مکالموں اور ثقافتی عکاسی کی وجہ سے آج بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ اس ڈرامے میں ایوب کھوسو کے ساتھ عتیقہ اوڈھو نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، جبکہ دیگر نمایاں اداکاروں میں نعمان اعجاز، اسد، رشید ناز اور عابد علی شامل تھے۔
ایوب کھوسو نے بتایا کہ ڈرامے میں انہوں نے ایک سخت مزاج قبائلی شخصیت کا کردار ادا کیا تھا، جس کے باعث رومانوی مناظر ان کے لیے خاصے مشکل ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ ثقافت میں جذبات کے اظہار کا انداز محدود اور باوقار ہوتا ہے، جبکہ ہدایتکار طارق معراج چاہتے تھے کہ محبت کو شاعرانہ انداز اور چہرے کے تاثرات کے ذریعے پیش کیا جائے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض مناظر میں تعریفِ حسن یا ہاتھ تھامنے جیسے سین شامل تھے، جنہیں نبھانا ان کے مزاج کے خلاف تھا۔ ایوب کھوسو نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ اور ان کے ساتھی اداکار بعض اوقات ایسے مناظر کم کرنے کی درخواست بھی کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ حقیقی زندگی میں وہ کم گو اور سنجیدہ طبیعت کے مالک ہیں، اس لیے آن اسکرین رومانس اور ذاتی شخصیت میں واضح فرق ہوتا ہے۔
ایوب کھوسو کے اس بیان نے ناظرین کو ایک بار پھر ماضی کے سنہری ڈراموں کی یاد دلا دی اور ’دشت‘ جیسے لازوال شاہکار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

Leave a reply