
وفاقی حکومت نے توشہ خانہ سے متعلق مزید شفافیت کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے اکتوبر تا دسمبر 2025 کی سہ ماہی کا ریکارڈ عوام کے سامنے پیش کردیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں اعلیٰ سرکاری و سیاسی شخصیات کو موصول ہونے والے تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کروا دیے گئے ہیں۔
جاری فہرست کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، فرسٹ لیڈی، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ، وزیر توانائی اویس لغاری، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ ان شخصیات میں شامل ہیں جنہیں اس مدت کے دوران تحائف موصول ہوئے۔
اس کے علاوہ معاون خصوصی طارق فاطمی، صدر کے ملٹری سیکرٹری، ترجمانِ صدر مرتضیٰ سولنگی، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، وزیر مملکت برائے ریلوے و خزانہ، مشرف زیدی، ڈی جی منرلز ڈاکٹر نواز احمد ورک، سیکرٹری اقتصادی امور، سیکرٹری آئی ٹی اور صدر کے اے ڈی سی سمیت دیگر افسران و شخصیات کو بھی تحائف دیے گئے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق موصول ہونے والے تحائف میں روضۂ رسول ﷺ، خانۂ کعبہ اور مکہ مکرمہ کے ماڈلز، پینٹنگز، پرفیومز، شیلڈز، قالین، ٹی سیٹس، تلواریں، خنجر، گلدان، گھڑیاں، آرائشی اشیا، سعودی کافی، کتب، رائل کیپس، یادگاری اشیا، ٹیبل واچز، میٹرو بس کے ماڈلز، قہوہ پاٹ، ملبوسات، موسیقی کے آلات، کمبل، اسکارف اور ٹائیز شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق تمام وصول کنندگان نے تحائف مقررہ ضابطوں کے تحت توشہ خانہ میں جمع کروا دیے ہیں۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے تحائف کی مالیت کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
واضح رہے کہ جاری کردہ اس سہ ماہی ریکارڈ میں تحائف دینے والوں کے نام شامل نہیں کیے گئے، جب کہ گزشتہ مالی سال کی آخری ششماہی (جنوری تا جون 2025) کی فہرست میں ملکی اور غیر ملکی تحائف دینے والوں کی تفصیلات بھی موجود تھیں۔








