بے چینی اور دباؤکےدل کی صحت پر اثرات

0
93
بے چینی اور دباؤکےدل کی صحت پر اثرات

شہر: موجودہ دور میں ذہنی دباؤ اور بے چینی ایک عام مسئلہ بن چکے ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف دماغ بلکہ دل پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اچانک سینے میں درد، دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات اکثر دل کے دورے اور پینک اٹیک دونوں میں ظاہر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق، دل کے مریضوں میں 30 فیصد افراد دل کی بیماری کے بعد شدید بے چینی کا شکار ہوتے ہیں۔ مسلسل دباؤ میں رہنے سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، دباؤ کے دوران جسم ایڈرینالین اور کورٹیسول جیسے ہارمونز خارج کرتا ہے، جو دل کی دھڑکن تیز کرتے ہیں اور خون کی گردش بڑھاتے ہیں۔ یہ عمل خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید برآں، زیادہ دباؤ اور بے چینی افراد کو نقصان دہ عادات جیسے سگریٹ نوشی، شراب نوشی، اور زیادہ کھانے کی طرف مائل کرتی ہیں، جو دل اور مجموعی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ذہنی دباؤ اور بے چینی کے علامات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر بار بار سینے میں درد یا دیگر علامات محسوس ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے مثبت عادات اپنانا بھی اہم ہے، جیسے صحت مند غذا، ورزش، مراقبہ، اور اپنی مشکلات خاندان یا دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا۔ اگر ضروری ہو تو ماہر نفسیات یا ڈاکٹر کی مدد لینا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی سکون اور اچھی زندگی کے لیے جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا لازمی ہے، اور دباؤ کو کم کرنے کے مؤثر اقدامات اپنانا ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔

Leave a reply