کیا مالی معاونت سے مساجد اور مدارس میں فرقہ واریت ختم ہو سکتی ہے؟

کیا مالی معاونت سے مساجد اور مدارس میں فرقہ واریت ختم ہو سکتی ہے؟

تحریر:اشفاق انجم

قیام پاکستان سے لے کر آج تک مساجد اور مدارس ہمیشہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہے ہیں۔ چاہے جمہوری حکومتیں آئیں یا آمریت کا دور ہو، سب کی کوشش رہی ہے کہ مساجد اور خطیب حضرات تک رسائی حاصل کی جائے، تاکہ مذہبی ہدایات اور اجتماعات پر اثر ڈال سکے۔ اس مقصد کے لیے امن کمیٹیاں بنائی جاتی رہیں، علماء کرام کو مشاورت میں شامل کیا جاتا رہا اور خطبہ جمعہ کی نگرانی کی جاتی رہی۔

گذشتہ حکومت کے بعد موجودہ وفاقی حکومت نے بھی اسلام آباد میں نماز کے اوقات ایک کرنے اور خطیب حضرات کے لیے سرکاری خطبہ فراہم کرنے کا پروگرام پیش کیا، لیکن عملاً ابھی تک یہ مکمل نہیں ہو سکا۔ اس کی بڑی وجہ مسالک کی بنیاد پر قائم مدارس، ان کے بورڈز اور خود مختاری ہے۔ جتنے بھی بورڈ ہیں، وہ اپنے نصاب، طریقہ نماز اور عقائد کے پرچار میں سختی سے قائم ہیں اور اپنے اصولوں میں کوئی رعایت نہیں کرتے۔

اس پس منظر میں پنجاب حکومت نے ایک نیا اور عملی قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے مساجد کی تعمیر کے لیے فنڈنگ کا اعلان کیا اور امام حضرات اور مدارس کے اساتذہ کے لیے ماہانہ مشاہرے کا فیصلہ کیا۔ وزارت داخلہ پنجاب نے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا، جس میں سینکڑوں امام اور خطیب حضرات نے حصہ لیا۔ یکم جنوری 2026ء سے رجسٹرڈ امام حضرات کو ماہانہ 25 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔

رجسٹریشن کے عمل میں جامع معلومات طلب کی گئی ہیں، جن میں مسجد کا مکمل نام، مقام، رقبہ، نمازوں کی تعداد، امام حضرات کی ذاتی معلومات اور تعلیمی قابلیت شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد صرف مالی معاونت فراہم کرنا نہیں بلکہ مساجد اور امام حضرات کی رجسٹریشن کے ذریعے بہتر نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانا بھی ہے۔

یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں امام حضرات اور مدارس کے اساتذہ کے لیے مالی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری اور دیگر اخراجات کے پیش نظر 25 ہزار روپے ماہانہ کا معاوضہ یقیناً ایک ریلیف کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اگر حکومت یوٹیلٹی بلز کی چھوٹ اور مدارس و مساجد کے بینک اکاؤنٹس کی سہولت فراہم کرے تو یہ اقدام مزید مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

حکومت پنجاب کا یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ مساجد اور مدارس کو خوف یا دباؤ کی بجائے سرکاری ذمہ داری کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ امام حضرات اور علماء کرام کو مناسب معاوضہ فراہم کرنا نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کرے گا بلکہ معاشرتی استحکام اور فرقہ واریت کے خاتمے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے ایک مثبت قدم اٹھایا ہے، جو عملی منصوبہ بندی اور مالی معاونت کے ذریعے مذہبی حلقوں کے ساتھ تعلق مضبوط کر سکتا ہے۔ مستقبل میں اس کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ حکومت مزید سہولیات فراہم کرے اور مدارس و مساجد کے انتظامات میں شفافیت برقرار رکھے۔

Leave a reply