کراچی میں 5.2 شدت کا زلزلہ، شہری خوفزدہ

کراچی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و اضطراب پیدا ہو گیا۔ زلزلے کے بعد بعض علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے جبکہ لیاری میں ایک رہائشی عمارت میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
تفصیلات کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب کراچی کے مختلف علاقوں جن میں آئی آئی چندریگر روڈ، لیاری، صدر، کلفٹن، پی ای سی ایچ ایس، ڈی ایچ اے، سائٹ ایریا، ٹیپو سلطان روڈ، پہلوان گوٹھ اور بحریہ ٹاؤن شامل ہیں، زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق جھٹکے رات 12 بج کر 51 منٹ پر ریکارڈ کیے گئے۔ زلزلے کی شدت 5.2 جبکہ اس کی گہرائی 12 کلو میٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز کراچی سے تقریباً 87 کلو میٹر دور بلوچستان کے ساحلی علاقے سومیانی کے قریب بتایا گیا ہے۔
اس سے قبل بلوچستان کے شہر سبی اور اطراف میں بھی زلزلہ محسوس کیا گیا تھا جس کی شدت 3.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز سبی کے جنوب مغرب میں 53 کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔
کراچی میں زلزلے کے بعد لیاری کے علاقے نیا آباد میں واقع ایک رہائشی عمارت کے مکین خوف کے باعث گھروں سے باہر نکل آئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو ادارے موقع پر پہنچ گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی معائنے میں عمارت کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا تاہم احتیاطی تدابیر کے تحت مزید جانچ جاری ہے۔
دوسری جانب لیاری نیا آباد لیاقت کالونی کے قریب واقع بابا آرکیڈ نامی رہائشی عمارت میں زلزلے کے بعد دراڑیں پڑنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے باعث مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایدھی حکام کے مطابق خدشے کے پیش نظر رہائشیوں نے عمارت خالی کر دی اور کھلے مقامات پر منتقل ہو گئے۔
پولیس، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر عمارت کا معائنہ شروع کر دیا ہے اور شہریوں کو عمارت سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادھر بلوچستان کے علاقوں وندر، حب، گڈانی اور سومیانی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم وہاں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری طرف بابا آرکیڈ کے بعض رہائشیوں کا کہنا ہے کہ عمارت محفوظ ہے اور زلزلے سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عمارت کے مخدوش ہونے سے متعلق افواہیں پھیلائی گئیں اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ عمل مبینہ طور پر بلڈنگ مافیا کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔








