انسان نے آگ جلانے پر کب قابو پایا؟ نئی تحقیق نے حیران کن شواہد پیش کر دیے

0
117
انسان نے آگ جلانے پر کب قابو پایا؟ نئی تحقیق نے حیران کن شواہد پیش کر دیے

سائنسدانوں کے مطابق قدیم انسان تقریباً چار لاکھ سال پہلے آگ جلانے اور اسے قابو میں رکھنے کی صلاحیت حاصل کرچکے تھے۔ یہ بات برطانیہ میں کی گئی ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

ماضی میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انسان تقریباً دس لاکھ سال سے آگ کا استعمال تو کر رہا تھا، مگر آگ جلانے کے واضح شواہد زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار سال پرانے سمجھے جاتے تھے، جو جنوبی فرانس سے ملے تھے۔

تاہم اب برطانیہ کے علاقے سافک میں جلی ہوئی زمین، آگ سے متاثر پتھریلے اوزار اور دستی کلہاڑیوں کے آثار ملنے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان لاکھوں سال پہلے ہی آگ جلانے میں مہارت حاصل کرچکا تھا۔

برٹش میوزیم سے وابستہ اس تحقیق میں شامل ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر روب ڈیوس کے مطابق آگ کو جلانا اور اسے کنٹرول کرنا انسانی تاریخ کے سب سے اہم سنگِ میلوں میں سے ایک ہے، کیونکہ اسی نے انسانی ارتقا کی سمت بدل دی۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آگ پر قابو پانے سے انسانوں کو سرد موسم میں گرم رہنے، اندھیرے میں روشنی حاصل کرنے اور درندوں سے بچاؤ میں مدد ملی۔ اس کے علاوہ خوراک کو پکانا ممکن ہوا، مستقل بستیاں بنیں اور دماغی نشوونما میں بھی اضافہ ہوا۔

ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق ان عوامل نے انسان کو مختلف موسموں اور علاقوں میں زندہ رہنے کے قابل بنایا، حتیٰ کہ انتہائی سرد خطوں میں بھی انسان آباد ہونے لگا۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے اس مقام پر آئرن پائرائیٹ کے ذرات بھی دریافت کیے، جو چقماق پتھر سے ٹکرانے پر چنگاری پیدا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معدنیات اس علاقے میں قدرتی طور پر موجود نہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم انسان اسے دور دراز علاقوں سے آگ جلانے کے مقصد سے لائے تھے۔

کیمیائی تجزیے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہاں پائے جانے والے کوئلے کو 700 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر جلایا گیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آگ کو بار بار بھڑکایا گیا اور یہ کوئی قدرتی حادثہ نہیں تھا۔

ماہرین نے ان شواہد کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا کہ یہ جگہ کسی قدیم کیمپ فائر کا مقام تھی۔

دیگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر انسان اتنے قدیم دور میں آگ جلانے کی صلاحیت رکھتا تھا تو ممکن ہے کہ اس سے بھی پہلے انسان آگ کو روزمرہ زندگی اور سماجی روابط کے لیے استعمال کرنا سیکھ چکا ہو۔

Leave a reply