ہائی بلڈ پریشر صرف دل کے لیے نہیں، آنکھوں کے لیے بھی خطرہ

0
98
ہائی بلڈ پریشر صرف دل کے لیے نہیں، آنکھوں کے لیے بھی خطرہ

کراچی: ہائی بلڈ پریشر یعنی ہائپر ٹینشن کو عام طور پر دل کی بیماریوں کا سبب سمجھا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آنکھوں کی صحت کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو ہائی بلڈ پریشر مستقل بینائی کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین امراض چشم کے مطابق بلند فشارِ خون آنکھ کے ریٹینا یعنی روشنی جذب کرنے والے حصے پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے ریٹینا کی خون کی نالیاں تنگ یا پھٹ سکتی ہیں، جس سے ہائپر ٹینسیو ریٹینوپیتھی جیسی حالت پیدا ہوتی ہے۔ ابتدائی مراحل میں یہ بینائی کو زیادہ متاثر نہیں کرتی، لیکن وقت کے ساتھ نظر دھندلی ہو سکتی ہے اور بینائی کا مستقل نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو دھندلی نظر، دوگنا دیکھنا، آنکھوں میں سوجن یا خون کی نالیوں کا پھٹنا جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کے افراد اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو باقاعدہ آنکھوں کا معائنہ کرانا چاہیے۔ جدید ٹیسٹ جیسے ڈائیلیٹڈ آئی ایگزام اور اوپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی ابتدائی علامات کی شناخت میں مدد دیتے ہیں۔

بلند فشار خون کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی، کم نمک والی غذا، ورزش اور ذہنی دباؤ سے بچاؤ ضروری ہے۔ ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیں بھی خون کے دباؤ کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کو وقت پر کنٹرول کر کے نہ صرف دل اور گردے کی حفاظت کی جا سکتی ہے، بلکہ آنکھوں کو بھی دیرپا نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

Leave a reply