قطبی رات کا آغاز: الاسکا میں سورج 23 جنوری تک غائب

امریکا کی ریاست الاسکا کے انتہائی شمال میں واقع قصبہ اُٹکیاغوِک ہر سال کی طرح اس بار بھی طویل قطبی رات میں داخل ہو رہا ہے، جس دوران سورج کئی ہفتوں تک دوبارہ نظر نہیں آئے گا۔
اس سال 18 نومبر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1 بج کر 36 منٹ پر سورج غروب ہوا، جس کے بعد اب یہ 23 جنوری تک افق پر واپس نہیں آئے گا۔ اس طرح یہاں کے رہنے والوں کو تقریباً 66 دن تک سورج طلوع ہوتے دیکھنے کا موقع نہیں ملے گا۔
یہ علاقہ آرکٹک سرکل میں ہونے کے باعث موسم سرما میں زمین کے جھکاؤ کا سیدھا اثر لیتا ہے۔ اسی وجہ سے سردیوں میں سورج ہفتوں تک غائب رہتا ہے، جبکہ گرمیوں میں یہی خطہ “مڈنائٹ سن” کے تحت 24 گھنٹے روشنی کا تجربہ کرتا ہے۔
ستمبر سے ہی یہاں دن چھوٹے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، اور نومبر تک صورتِ حال طویل اندھیرے میں بدل جاتی ہے۔ اگرچہ قطبی رات کے دوران مکمل تاریکی نہیں ہوتی، لیکن روشنی انتہائی مدھم ہوتی ہے اور عام طلوع یا غروبِ آفتاب جیسی کیفیت نظر نہیں آتی۔
اُٹکیاغوِک الاسکا کا واحد قصبہ نہیں جو اس موسم کا سامنا کرتا ہے، مگر سب سے زیادہ شمال میں ہونے کی وجہ سے یہ سب سے پہلے قطبی رات میں داخل ہوتا ہے۔ تقریباً 4300 باشندے آنے والی سخت سردیوں، کم روشنی اور طویل اندھیرے کے دوران مختلف جسمانی و ذہنی تبدیلیوں کا سامنا کرتے ہیں۔









